سبی(رپورٹر)اسپورٹس فیسٹیول 2025 کا دوسراروز, سنسنی خیز مقابلوں نے سماں باندھ دیا, فیسٹیول کے تحت ضلع سبی کے مختلف گراؤنڈز میں دلچسپ، سخت اور سنسنی خیز مقابلے جاری ہیں, سبی کے مختلف گراؤنڈز میں کرکٹ, فٹبال, شوٹنگ بال, بیڈمنٹن سمیت کھیلوں کے دیگر پروگرامز جاری ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سبی میں اسپورٹس فیسٹیول دوسرے روز بھی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جاری ہے۔ سبی ڈویژن میں ڈویژنل اسپورٹس فیسٹیول 2025 دوسرے روز بھی نہایت جوش و خروش اور رنگا رنگ تقریبات کے ساتھ جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی خصوصی ہدایات اور صوبائی ایڈوائزر مینا مجید بلوچ کی بھرپور کاوشوں کے باعث اس سال سبی ڈویژن صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کا اہم مرکز بن گیا ہے۔ فیسٹیول کے سلسلے میں ضلع سبی کے مختلف گراؤنڈز میں دلچسپ، سخت اور سنسنی خیز مقابلے جاری ہیں۔ میر چاکر خان رند یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں ڈویژنل سطح کے کرکٹ میچز شائقین کی بھرپور توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جہاں ہر روز بڑی تعداد میں تماشائی موجود رہتے ہیں۔ ڈگری بوائز کالج فٹ بال گراؤنڈ میں جاری فٹ بال ایونٹس سینکڑوں شائقین طلف اندوز ہورہے ہیں جبکہ دوسری جانب جرگہ ہال سبی کے سبزہ زاروں میں شوٹنگ بال کے مقابلے بھی بھرپور انداز میں جاری ہیں، جہاں کھلاڑی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ سپورٹس کمپلیکس سبی میں بیڈمنٹن کے میچز کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جنہیں شائقین کی جانب سے خوب پذیرائی مل رہی ہے جبکہ دلچسپ اور سخت مقابلوں نے گراؤنڈ کا سماں دیدنی بنا دیا ہے۔ڈویژنل اسپورٹس فیسٹیول میں دوسرے روز کے مختلف پروگراموں میں سبی ڈویژن کے پانچ اضلاع جن میں سبی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، ہرنائی اور زیارت کے کھلاڑی اپنی اپنی ٹیموں کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ہر ٹیم بہترین کارکردگی کے لیے پرعزم ہیں۔ فیسٹیول کے فوکل پرسن عبدالصمد بنگلزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فٹ بال، کرکٹ، بیڈمنٹن، شوٹنگ بال اور کبڈی کے مقابلے روزانہ کی بنیاد پر منعقد ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت عوام کے لئے نہ صرف سہولیات میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بھی عملی اقدامات جاری ہیں۔عوامی حلقوں نے صوبائی حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوۓ کہنا تھا کہ کھیل کے میدان کی نوجوانوں میں ذہنی اور جسمانی ترقی کے لیے اہمیت بہت زیادہ ہے۔ موجودہ دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے، وہاں کھیلوں کی ضرورت پہلے سے بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ کھیل کا میدان نوجوانوں کو نہ صرف جسمانی طور پر مضبوط بناتا ہے بلکہ ان کی ذہنی اور جذباتی صحت کو بھی بہتر کرتا ہے

