انڈین نمائش میں چینی روبوٹ کتا: مصنوعی ذہانت بمقابلہ فطری حماقت

انڈین دارالحکومت نئی دہلی میں تین روز جاری رہنے والی اے آئی سمٹ میں مصنوعی ذہانت اور انسانی حماقت کے درمیان ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ یہ مقابلہ اتنا کانٹے کا تھا کہ عوام، انڈین میڈیا حتیٰ کہ عالمی نشریاتی اداروں کے لیے بھی اندازہ کرنا مشکل تھا کہ مصنوعی ذہانت اور انسانی حماقت میں سے کون آگے ہے۔

اس مقابلے کا آغاز اس وقت ہوا جب اے آئی سمٹ کے پہلے ہی روز نئی دہلی میں قائم ایک نجی تعلیمی ادارے ’گلگوٹیا یونیورسٹی‘ کی پروفیسر نیہا سنگھ نے انڈین سرکاری ٹیلی ویژن ڈی ڈی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کر دیا کہ ان کے پویلین پر نمائش کے لیے رکھا روبوٹ کتا دراصل یونیورسٹی کی اپنی تخلیق ہے۔

یہ دعویٰ سراسر غلط اور جھوٹ پر مبنی تھا۔ لیکن اسی دوران انڈین وزیر برائے آئی ٹی ایشونی ویشنا نے بھی اس انٹرویو کو اے آئی کے شعبے میں انڈیا کی بڑی کامیابی کے طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کر دیا۔

جب اس انٹرویو کی ویڈیو انٹرنیٹ پر چلی تو سوشل میڈیا صارفین نے چند لمحوں میں اس جھوٹ کو پکڑ لیا۔ فیکٹ چیکرز نے حقیقت سامنے لاتے ہوئے واضح کیا کہ وہ روبوٹک کتا انڈین نہیں بلکہ ایک چینی کمپنی کی تخلیق ہے اور تقریباً سات لاکھ پاکستانی روپے میں آن لائن خریداری کے لیے بھی دستیاب ہے۔

اس کے بعد جو کچھ ہوا اس نے آئن سٹائن سے منسوب اس مقولے کی یاد تازہ کر دی جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’دو چیزوں کی کوئی حد نہیں: کائنات اور انسانی حماقت۔ تاہم کائنات کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔‘ یعنی کائنات کے لامحدود ہونے میں تو شک کیا جا سکتا ہے لیکن انسانی حماقت کی لامحدودیت میں کوئی شک نہیں۔

اور اس روز انسانی حماقت کے لامحدود ہونے کا ثبوت گلگوٹیا یونیورسٹی کی پروفیسر نیہا سنگھ نے دیا۔ پہلے پے در پے جھوٹ بول کر اور پھر اپنی غلط بیانیوں کا مضحکہ خیز حد تک دفاع کر کے۔

نیہا سنگھ نے صرف روبو ڈاگ کے بارے میں ہی جھوٹ نہیں بولا۔ انہوں نے بڑے فخر کے ساتھ سٹال میں رکھے ’سوکر بال ڈرون‘ کا بھی مکمل انڈین تخلیق کے طور پر تعارف کرایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس ڈرون کے بنیادی ڈیزائن سے لے کر انجینیئرنگ اور اے آئی ٹیکنالوجی تک سب کچھ گلگوٹیا یونیورسٹی میں تیار ہوا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جبکہ حقیقت میں یہ بھی ایک درآمد شدہ پراڈکٹ تھی جسے جنوبی کوریا کی ایک کمپنی نے تیار کیا تھا۔ تاہم میڈیا پر ان کے اس جھوٹ کو وہ ’پذیرائی‘ نہیں ملی جو روبوٹک کتے کے حوالے سے ان کے بیان کے حصے میں آئی۔

جب مقامی اور عالمی میڈیا کے نمائندوں نے ثبوتوں کے ساتھ ان پر واضح کیا کہ وہ مشینی کتا اور سوکر ڈرون تو دراصل چین اور جنوبی کوریا کی ایجادیں ہیں تو اس پر نیہا سنگھ صاحبہ کی طرف سے آئیں بائیں شائیں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو سمٹ کے تینوں دن جاری رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں شاید اپنی بات واضح نہیں کر سکی لیکن آپ لوگوں (میڈیا) نے بھی میری بات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔‘

پھر انہوں نے ایک گہرے فلسفے پر مبنی بیان جاری کیا کہ ’آپ کا چھ میرا نو ہو سکتا ہے۔‘ یعنی اپنے اپنے نقطہ نظر سے ہر انسان کو حقائق مختلف نظر آ سکتے ہیں۔ اس دوران وہ اپنی غلط بیانی پر معذرت بھی کرتی جاتی تھیں اور ساتھ ہی ساتھ اسی غلط بیانی کا ذمہ کبھی میڈیا، کبھی ہیجانی کیفیت اور کبھی سمٹ کے ماحول سے وابستہ جوش کے سر بھی ڈالتی جاتی تھیں۔

وہ بات کو گھما پھرا کر اپنے موقف پر اتنی ڈھٹائی سے ڈٹی رہیں کہ بعض انڈین سوشل میڈیا صارفین نے انہیں سیاست دان بننے اور بعض نے تو حکمران جماعت بی جے پی کی ترجمان کے عہدے کے لیے موزوں ترین قرار دے دیا۔

اسی دوران انڈین وزیر برائے آئی ٹی ایشونی ویشنا اس انٹرویو پر مبنی اپنی پوسٹ چپکے سے ڈیلیٹ کر چکے تھے۔ لیکن اس عمل نے صورت حال کو مزید بھڑکایا اور سوشل میڈیا اور نیوز چینلز ان کی ڈیلیٹ کردہ پوسٹ کے سکرین شاٹ شیئر کرتے رہے۔

جب معاملہ حد سے بڑھ گیا اور روبو ڈاگ اور انڈین یونیورسٹی کی غلط بیانی کی خبر صرف انڈیا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے بڑے بڑے خبر رساں اداروں کی ہیڈ لائن بن گئی تو کانفرنس کے آرگنائزرز یعنی انڈین حکومت نے گلگوٹیا یونیورسٹی کو پویلین خالی کر کے سمٹ سے چلے جانے کا حکم دے دیا اور ان کے سٹال کی بجلی بھی منقطع کر دی گئی۔

اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد کہیں جا کر گلگوٹیا یونیورسٹی کی جانب سے اس واقعے پر معافی مانگی گئی۔ یونیورسٹی کے معافی نامے میں تاہم سارا الزام یہ کہتے ہوئے پروفیسر نیہا سنگھ پر دھر دیا گیا کہ ان کی معلومات درست نہیں تھیں اور وہ کیمرے پر آنے کے جوش میں وہ سب کہہ گئیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا۔

یونیورسٹی کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے بہت سے انڈین صحافیوں اور انفلوئنسرز نے الزام لگایا کہ نیہا سنگھ نے کیمرے پر وہی کچھ کہا جو یونیورسٹی انتظامیہ نے انہیں کہنے کی ہدایت کی ہو گی۔ لیکن معاملہ بگڑنے پر انتظامیہ نے ساری ذمہ داری اپنی نمائندہ پر ڈال کر خود بری الذمہ ہونے کی کوشش کی ہے۔

چند ہی گھنٹوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں جھوٹا کریڈٹ لینے کے اس واقعے نے انڈین تعلیمی اداروں کی ساکھ، انڈیا میں مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والے افراد کی اہلیت اور مودی سرکار کی شعبدہ بازیوں پر تیز و تند بحث کو جنم دے دیا۔

اسی تناظر میں انڈین اپوزیشن جماعتوں نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا۔ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ سمٹ ’غیر منظم پی آر شو‘ بن چکی ہے اور یہاں ’انڈین ڈیٹا فروخت کے لیے اور چینی مصنوعات نمائش کے لیے‘ پیش کی جا رہی ہیں۔

سینیئر انڈین سیاست دان اور رکنِ پارلیمنٹ کپل سبل نے پریس کانفرنس میں اس واقعے کو ’گلگوٹین بلنڈر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات انڈیا کی عالمی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔

معروف انڈین صحافی ارفع خانم شیروانی نے سب سے تیز دھار تبصرہ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’یہ گلگوٹیا ماڈل نہیں بلکہ گجرات ماڈل ہے۔‘

’گجرات ماڈل‘ کی اصطلاح انڈین ریاست گجرات میں ترقی کے دعووں سے متعلق سیاسی بحث میں استعمال ہوتی رہتی ہے۔ بی جے پی کے حامی اس اصطلاح کو گجرات میں مودی کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں ہونے والی ترقی کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں جبکہ ان کے ناقد اس ترکیب کو ترقی کے نام پر دھوکہ دہی، جھوٹ اور پی آر سٹنٹ سے جوڑتے ہیں۔ ارفع خانم شیروانی نے گلگوٹیا یونیورسٹی کے جھوٹ اور خالی دعوؤں کو اسی تناظر میں نریندر مودی کے طرزِ حکمرانی کا عکس قرار دیا۔

سینیئر انڈین صحافی راج دیپ سردیسائی نے اپنے ویڈیو تجزیے میں اس واقعے کو انتہائی افسوس ناک اور انڈین جامعات میں ’جھوٹے ہائپ کلچر‘ کی علامت قرار دیا۔ معروف انڈین یوٹیوب چینل ’دی دیش بھگت‘ نے اپنے تبصرے میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں انڈیا کی کامیابیوں کو گنواتے ہوئے گلگوٹیا واقعے کو پی آر کی بڑی ناکامی قرار دیا۔

طنز و مزاح پر مبنی کنٹینٹ کریئیٹ کرنے والے انڈین یوٹیوب چینل ’بی انگ آنسٹ‘ نے مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا کہ انڈیا کے اے آئی پوٹینشل کے باوجود اس سمٹ نے ’مشینوں سے زیادہ میمز‘ پیدا کیں۔

تاہم معروف انڈین صحافی پالکی شرما، جو بی جے پی کی پالیسیوں کو کھل کر سپورٹ کرتی ہیں، نے نکتہ اٹھایا کہ اس واقعے میں ’بدنیتی‘ کے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے سے انڈیا کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچا ہے، لہٰذا ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات ہونی چاہییں۔

انڈیا کچھ عرصے سے عالمی برادری کے سامنے خود کو مصنوعی ذہانت کے بڑے مرکز کے طور پر پیش کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ نیو دہلی اے آئی سمٹ جیسے ایونٹ صرف ایک نمائش نہیں بلکہ تحقیق اور تخلیق کے میدان میں اپنے کردار کو منوانے کی کوشش شمار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روبوٹ اور پھر ڈرون کے بارے میں جھوٹ تو ایک نجی تعلیمی ادارے نے بولا لیکن دنیا بھر میں اسے پوری انڈین اے آئی انڈسٹری اور تعلیمی اداروں میں تحقیق اور ساکھ کے معیار پر بڑے سوالیہ نشان کے طور پر دیکھا گیا۔

اگرچہ تقریباً تمام انڈین تجزیہ کاروں اور غیر جانبدار مبصرین نے بھی یہ تسلیم کیا کہ یہ واقعہ انڈیا کے لیے شرمندگی کا باعث بنا، لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس واقعے سے قطع نظر اے آئی کے شعبے میں انڈیا تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اس حوالے سے وہاں پائے جانے والے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

اپنا تبصرہ بھیجیں