امریکی ہوٹلوں کو توقع تھی کہ اس موسمِ گرما میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے شائقین کی آمد سے ہوٹل مکمل طور پر بھر جائیں گے، تاہم اب جیو پولیٹیکل صورتحال (مشرق وسطیٰ میں امریکی جنگ) اور مالی خدشات کے باعث کچھ فٹبال شائقین نے سفر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں ہوٹل اپنی قیمتیں کم کر رہے ہیں۔
فنانشل ٹائمز نے ’لائٹ ہاؤس انٹیلیجنس‘ کے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ میچ کے دنوں میں میامی، ڈیلس، سان فرانسسکو، فلاڈیلفیا اور اٹلانٹا سمیت کئی میزبان شہروں میں ہوٹل کمروں کے کرائے اس سال کے آغاز میں اپنی بلند ترین سطح کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی تک کم ہو گئے ہیں۔
نیویارک سٹی ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر وجے دنداپانی نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ اب تک طلب میں کوئی نمایاں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ ان کے بقول، ممکن ہے آئندہ کچھ بہتری آئے، لیکن فی الحال یہ وہ غیر معمولی صورتحال نہیں جس کی پیش گوئی فیفا نے کی تھی۔
2024 میں فیفا کے صدر نے شمالی امریکہ کے میزبان شہروں کو یقین دلایا تھا کہ میچز کے دوران لاکھوں شائقین کی آمد متوقع ہے، تاہم موجودہ اعداد و شمار اس اندازے کے برعکس جا رہے ہیں۔
فیفا نے اس سال کے ورلڈ کپ ایونٹس کے لیے پہلے سے بک کیے گئے ہزاروں ہوٹل کمروں کی ریزرویشن بھی منسوخ کر دی ہے، جن میں فلاڈیلفیا، ڈیلس، میکسیکو سٹی اور وینکوور شامل ہیں۔
گریٹر فلاڈیلفیا ہوٹل ایسوسی ایشن کے مطابق، شہر کے ہوٹلوں میں تقریباً دو ہزار کمروں کی بکنگ پہلے ہی منسوخ کی جا چکی ہے، جبکہ اس سے قبل ٹورنامنٹ کے لیے تقریباً 10 ہزار کمرے مختص کیے گئے تھے۔
مارچ کے اوائل میں میکسیکو سٹی میں بھی فیفا نے اپنے 40 فیصد ہوٹل کمروں کی بکنگ منسوخ کر دی تھی جبکہ اپریل کے آغاز میں ڈیلس اور آرلنگٹن، ٹیکسس میں بھی کچھ ریزرویشنز ختم کی گئیں۔ آرلنگٹن 2026 میں نو میچز کی میزبانی کرے گا، جو کسی بھی دوسرے شہر سے زیادہ ہیں۔
یونیورسٹی آف نارتھ ٹیکسس کے سپورٹس مینجمنٹ کے پروفیسر باب ہیرے نے کہا کہ مقامی شائقین ممکنہ طور پر ٹیکسس کے میچز کو بھر دیں گے، تاہم امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے ساتھ جنگ اور عالمی تجارتی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے امریکہ مخالف جذبات سے کچھ بین الاقوامی شائقین امریکہ کے سفر سے گریز کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’حالیہ برسوں میں امریکی حکومت کی پالیسیوں نے دنیا کو ایک واضح پیغام دیا ہے، اور بہت سے لوگ امریکہ آنے کے حوالے سے فکرمند ہیں۔‘
ہوٹل آپریٹر ایچ آر آئی ہاسپیٹیلٹی کے چیف کمرشل آفیسر لیور سیکلر نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’واضح طور پر اس وقت لوگوں کی امریکہ آنے کی خواہش میں کمی آئی ہے۔‘
بین الاقوامی مسافروں کی حوصلہ شکنی کی ایک اور بڑی وجہ ٹکٹوں کی قیمتیں بھی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکی شائقین کے لیے فیفا کے ٹکٹ خریدنا نسبتاً آسان ہے کیونکہ انہیں بین الاقوامی سفر اور ہوٹل اخراجات شامل نہیں کرنے پڑتے۔
فیفا کی جانب سے دسمبر میں جاری کردہ قیمتوں کے مطابق ابتدائی مرحلے کے چند میچز کے ٹکٹ 140 ڈالر سے شروع ہو کر امریکہ اور پیراگوئے کے افتتاحی میچ کے لیے 2,735 ڈالر تک پہنچ گئے، جو لاس اینجلس میں کھیلا جائے گا۔ بعد کے مرحلوں میں قیمتیں اور بھی زیادہ ہیں اور نیو جرسی میں ہونے والے فائنل کے لیے سب سے سستا ٹکٹ 4,165 ڈالر جبکہ مہنگا ترین 8,680 ڈالر تک ہے۔
فیفا کا کہنا ہے کہ اس نے ابتدائی طور پر ہوٹل کمروں کی بکنگ اپنے عملے، میڈیا اور ٹورنامنٹ سے وابستہ افراد کے لیے کی تھی اور جیسے جیسے شرکا کی تعداد واضح ہوتی ہے، ویسے ویسے بکنگ میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔
فیفا کے ترجمان نے کہا: ’یہ کمرے فیفا کے عملے، میڈیا اداروں اور ٹورنامنٹ کے آپریشنل پارٹنرز کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ جیسے جیسے میچز کے قریب شرکا کے اعداد و شمار واضح ہوتے ہیں، فیفا ہوٹل بکنگ میں اسی حساب سے تبدیلی کرتا ہے۔‘
انڈیپنڈنٹ نے اس معاملے پر فیفا سے مزید مؤقف کے لیے رابطہ کیا ہے۔

