تحریر: یونس بلوچ
کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی زندگی صرف ایک ملازمت کے طور پر نہیں گزارتیں بلکہ اپنے علم، کردار، اخلاص، محنت اور خدمت سے اپنے عہد پر ایسے نقوش ثبت کر جاتی ہیں جو ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی مدتوں باقی رہتے ہیں۔ وہ بظاہر ایک فرد ہوتی ہیں، مگر اپنے پیچھے ایک پوری علمی روایت، ہزاروں شاگرد اور نسلوں تک پھیلنے والی روشنی چھوڑ جاتی ہیں۔ہینار نوغے کی ایسی ہی ایک معتبر، باوقار، علم دوست اور قابلِ احترام شخصیت محترم ٹیچر عبدالواحد عمرانیؒ تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، تعلیم، تربیت اور نئی نسل کی فکری و اخلاقی تعمیر کے لیے وقف کیے رکھی۔1940ء میں پیدا ہونے والے استاد عبدالواحد عمرانیؒ تقریباً 86 برس کی عمر میں 23 اگست 2026ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ ان کی وفات محض ایک خاندان کے سربراہ یا ایک ریٹائرڈ استاد کا انتقال نہیں تھا، بلکہ جھالاوان کے تعلیمی حلقوں کے لیے ایک ایسے عہد کا اختتام تھا جس میں علم، استاد اور تعلیمی ادارے کو معاشرے کی تعمیر کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔
کسمپرسی سے علم کی بلندیوں تک
سر عبدالواحد عمرانیؒ صاحب کی زندگی اس بات کی روشن مثال تھی کہ محدود وسائل اور مشکل حالات انسان کے عزم کو شکست نہیں دے سکتے۔انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم صوبہ سندھ کے علاقہ نصیرآباد سے حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے مڈل کا امتحان ماڈل ہائی سکول خضدار سے اچھے نمبروں میں پاس کیا۔ اس کے بعد میٹرک اور ایف اے کے امتحانات انہوں نے سکھر بورڈ سے پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے پاس کیے۔تعلیم کا سفر یہاں نہیں رکا۔ انہوں نے سکھر سے بیچلر اور ماسٹر کی ڈگریاں بھی حاصل کیں، جبکہ بی ایڈ کا امتحان ضلع مستونگ سے پاس کیا۔یہ تعلیمی سفر اس دور میں طے کرنا، جب آج کی طرح تعلیمی سہولیات، وسائل اور ذرائع دستیاب نہیں تھے، ان کے عزم، محنت اور علم سے غیر معمولی وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے علم کو صرف اپنی ذات کی ترقی کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے معاشرے کی نئی نسل تک پہنچانے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔
تدریسی سفر کا آغاز
سر عبدالواحد عمرانی حصول علم کے ساتھ ساتھ تدریس سے بھی منسلک ہو گئے وہ 1969محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوئے اور جے وی ٹی کی حیثیت سے اپنی عملی ملازمت کا آغاز کیا۔ اپنی قابلیت، محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث وہ بتدریج جے ای ٹی اور پھر ایس ایس ٹی کے عہدے تک ترقی کرتے گئے۔ان کی شخصیت میں ایک کامیاب استاد کی تمام خوبیاں موجود تھیں۔ وہ محض کتابی علم منتقل کرنے والے معلم نہیں تھے بلکہ طلبہ کی شخصیت سازی، نظم و ضبط، اخلاقی تربیت اور مستقبل کی تعمیر کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔
گورنمنٹ مڈل سکول باغبانہ — ایک مثالی دور
سرعبدالواحد عمرانی صاحب کی تعلیمی زندگی کا ایک نمایاں باب گورنمنٹ مڈل سکول باغبانہ کی سربراہی تھا۔جب وہ اس ادارے کے ہیڈماسٹر مقرر ہوئے تو انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں، تعلیمی وژن اور محنت سے سکول کے ماحول کو ایک مثالی تعلیمی ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ان کے دور میں مڈل کے امتحانات میں سکول کا نتیجہ مسلسل سو فیصد رہا۔ یہ غیر معمولی تعلیمی کارکردگی صرف ایک اچھے امتحانی نتیجے کا نام نہیں تھابلکہ اس کے پیچھے ایک ایسے سربراہ کی محنت، اساتذہ کی رہنمائی اور طلبہ کی مسلسل تربیت شامل تھی جو تعلیم کو ایک مشن سمجھتا تھا۔اسی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے سکول کو بہترین سکول اور سرعبدالواحد عمرانیؒ کو بہترین ہیڈماسٹر ہونے کے اعزاز سے نوازا گیا۔ انہیں تعریفی خطوط اور شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔یہ اعزاز دراصل میں ان کی برسوں کی محنت اور تعلیمی خدمات کا سرکاری اعتراف تھا۔
ہائی سکول باغبانہ اور ہائی نال میں خدمات
گورنمنٹ مڈل سکول باغبانہ کے بعد انہوں نے ہائی سکول باغبانہ کی سربراہی بھی کی اور اپنی انتظامی و تدریسی صلاحیتوں کو مزید وسعت دی۔بعد ازاں ہائی نال میں بھی بحیثیت ہیڈماسٹر خدمات انجام دئیے۔ ان اداروں میں ان کی موجودگی نے نہ صرف تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا بلکہ علاقے میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ان کے نزدیک سکول صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ایک ایسی درسگاہ تھی جہاں مستقبل کے معمار تیار ہوتے ہیں۔
ماڈل ہائی سکول خضدار کی قیادت
سرعبدالواحد عمرانیؒ صاحب کی علمی و انتظامی زندگی کا ایک اہم اور یادگار باب ماڈل ہائی سکول خضدار سے وابستہ ہے، جہاں انہوں نے پرنسپل کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیں۔یہ وہ زمانہ تھا جب خضدار میں معیاری تعلیم کے حوالے سے ماڈل ہائی سکول ایک اہم ادارہ سمجھا جاتا تھا۔ سرعبدالواحد عمرانیؒ صاحب نے اپنی وسیع تدریسی اور انتظامی تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے ادارے کی تعلیمی فضا کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ان کے نزدیک ایک اچھے تعلیمی ادارے کی کامیابی صرف امتحانات میں اچھے نمبروں تک محدود نہیں تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ طلبہ علم کے ساتھ کردار، دیانت، نظم و ضبط، ذمہ داری اور خدمتِ خلق کا جذبہ بھی لے کر عملی زندگی میں قدم رکھیں۔
ہزاروں شاگرد، ایک استاد کی سب سے بڑی میراث
سرعبدالواحد عمرانی صاحب کی سب سے بڑی میراث کوئی عمارت، سرکاری عہدہ یا اعزاز نہیں بلکہ ان کے ہزاروں شاگرد ہیں۔ان کے شاگرد آج زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تعلیم، انتظامیہ، پولیس،صحت، زراعت، لوکل گورنمنٹ، بیوروکریسی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں زمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں یہ تمام سر عبدالواحد عمرانی صاحب کی علمی و تربیتی کاوشوں کے ثمرات ہیں۔ایک استاد کی اصل کامیابی یہی ہوتی ہے کہ اس کے شاگرد اس کے بعد بھی معاشرے میں اس کے علم، تربیت اور کردار کی نمائندگی کرتے رہیں۔اس اعتبار سے سرعبدالواحد عمرانیؒ کی زندگی ایک کامیاب معلم کی زندگی تھی۔انہوں نے جو کچھ کلاس روم میں پڑھایا، وہ صرف کتاب کے صفحات تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے شاگردوں کے کردار، پیشہ ورانہ زندگی اور معاشرتی خدمات میں آگے منتقل ہوتے گئے
اپنی اولاد میں بھی علم کی روایت
سر عبدالواحد عمرانیؒ کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے تعلیم کو صرف اپنی پیشہ ورانہ زندگی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے گھر میں بھی علم و تعلیم کی روایت کو فروغ دیا۔ان کے اپنے بیٹے بھی شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں۔ جن میں علی اصغر عمرانی ہیڈ ماسٹر ہائی سکول ہینار نوغے تعینات ہے جبکہ خلیل احمد نقشبندی اور منظور احمد بھی بحیثیت ٹیچر خدمات سر انجام دے رہے ہیں آپ کہہ سکتے ہیں کہ علم کا وہ چراغ جو عبدالواحد عمرانی صاحب نے اپنی زندگی میں روشن کیا تھا، ان کی اولاد کے ذریعے بھی آگے بڑھتا جا رہا ہے۔یہ کسی استاد کے لیے یقیناً ایک بڑا اعزاز ہے کہ اس کی اپنی اولاد بھی علم، تعلیم اور تربیت کے شعبے سے وابستہ ہو کر معاشرے کی نئی نسل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے۔
ایک استاد نہیں، ایک تعلیمی روایت
سر عبدالواحد عمرانیؒ کو صرف ایک ریٹائرڈ ہیڈماسٹر یا پرنسپل کے طور پر یاد کرنا ان کی شخصیت اور خدمات کو محدود کرنا ہوگا۔وہ ایک ماہرِ تعلیم، منتظم، مربی، رہنما اور نسل ساز استاد تھے۔انہوں نے جس دور میں تعلیم حاصل کی، اس زمانے میں سہولیات محدود تھیں۔ مگر انہوں نے مشکلات کا مقابلہ کیا، اپنی تعلیم مکمل کی، اپنی قابلیت منوائی اور پھر اپنی پوری زندگی دوسروں کو تعلیم دینے میں صرف کردی۔یہی وجہ ہے کہ ان کی علمی و تعلیمی خدمات صرف ایک ادارے، ایک شہر یا ایک تحصیل تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کا دائرہ خدمت پورے جھالاوان تک پھیلا ہوا تھا انہی کی کاوشوں کی وجہ سے ہینار نوغے وہ واحد علاقہ ہے جہاں ہر گھر میں ایک معلم کا تعلق ہے جو اپنی تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں ان کی انہی وسیع تعلیمی و علمی خدمات کے اعتراف میں انہیں ”بابائے نوغے ” کا خطاب بھی دیا گیا۔یہ خطاب محض ایک نام نہیں بلکہ ان کے علاقے کے لوگوں کی جانب سے ان کے لیے محبت، احترام اور اعترافِ خدمت کا اظہار تھا۔
ریٹائرمنٹ، مگر خدمت کا سفر جاری
عمر کی بالائی حد کو پہنچنے کے بعد سرعبدالواحد عمرانیؒ صاحب2000ء کے آخر ی مہینوں میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوگئے، لیکن ایک حقیقی استاد کبھی مکمل طور پر ریٹائر نہیں ہوتا۔ملازمت ختم ہوسکتی ہے، عہدہ ختم ہوسکتا ہے، دفتر سے رخصتی ہوسکتی ہے، مگر علم بانٹنے اور نسلوں کی تربیت کا اثر ختم نہیں ہوتا۔سر عبدالواحد عمرانیؒ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی ان کی شخصیت، ان کا علم، ان کی گفتگو، ان کی نصیحتیں اور ان کی تربیت ان کے شاگردوں اور اہلِ علاقہ کے درمیان زندہ رہی۔
نوغے کی مٹی نے اپنے سپوت کو اپنے دامن میں لے لیا
23 اگست 2026ء کو جب یہ عظیم علمی شخصیت دنیا سے رخصت ہوئی تو یقیناً یہ ان کے خاندان کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان تھا، مگر اس کے ساتھ ساتھ خضدار، نوغے، باغبانہ اور پورے جھالاوان کے تعلیمی حلقے بھی ایک ایسی شخصیت سے محروم ہوگئے جس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ علم کی خدمت میں گزار دیا تھا۔ان کی تدفین ان کے آبائی علاقے نوغے میں ہوئی۔ان کے جنازے میں مختلف طبقاتِ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت اس بات کا مظہر تھی کہ استاد عبدالواحد عمرانیؒ نے اپنے عہدے سے کہیں بڑھ کر لوگوں کے دلوں میں مقام پیدا کیا تھا۔ان کے جنازے میں یقیناً ایسے بے شمار شاگرد بھی موجود تھے جنہوں نے کبھی ان سے سبق پڑھا، کبھی ان کی رہنمائی حاصل کی اور کبھی ان کی شفقت و سختی کے ذریعے اپنی شخصیت کو سنوارا۔ہر شاگرد کے دل میں اپنے استاد کی کوئی نہ کوئی یاد محفوظ ہوگی؛ کوئی سبق، کوئی نصیحت، کوئی ڈانٹ، کوئی شفقت یا کوئی ایسا جملہ جو وقت گزرنے کے باوجود آج بھی اس کے ذہن میں زندہ ہوگا۔
ایک روشن چراغ بجھ گیا، مگر روشنی باقی ہے
استاد عبدالواحد عمرانیؒ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی علمی زندگی کا سفر ان کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہوا۔ان کے ہزاروں شاگردوں میں ان کی محنت زندہ ہے۔ان کی اولاد میں ان کی علمی روایت زندہ ہے۔ان تعلیمی اداروں کی تاریخ میں ان کی خدمات زندہ ہیں جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سال گزارے۔اور ان نسلوں کی کامیابیوں میں ان کے علم و تربیت کی جھلک آج بھی موجود ہے جنہیں انہوں نے اپنی زندگی میں تعلیم دی۔یہی ایک حقیقی استاد کی اصل کامیابی ہے۔ایک استاد جب دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو بظاہر ایک شخص دنیا سے جاتا ہے، مگر اگر اس نے علم کا چراغ جلایا ہو تو وہ چراغ اس کے شاگردوں کے ہاتھوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔استاد عبدالواحد عمرانیؒ نے بھی علم کے ایسے ہی چراغ روشن کیے۔ ان کے شاگرد جہاں جہاں موجود ہیں، وہاں وہاں ان کی محنت اور تربیت کی روشنی بھی موجود ہے۔اسی لیے ان کی وفات کو محض ایک شخصیت کی جدائی نہیں کہا جاسکتا۔وہ ایک استاد تھے، مگر اپنے پیچھے ایک تعلیمی روایت چھوڑ گئے۔وہ ایک ہیڈماسٹر تھے، مگر ہزاروں زندگیوں کے معمار بنے۔وہ ایک پرنسپل تھے، مگر ایک پورے عہد کی علمی شناخت بن گئے۔آج نوغے کی مٹی نے اپنے اس عظیم سپوت کو اپنے دامن میں لے لیا ہے، لیکن ان کا علم، ان کی خدمات اور ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔اللہ تعالیٰ استاد عبدالواحد عمرانیؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، اولاد، شاگردوں، دوستوں، احباب اور تمام سوگواروں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔بے شک ایک اچھا استاد دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو صرف ایک شخص نہیں، ایک عہد رخصت ہوتا ہے؛ مگر جب اس کے شاگرد علم کا چراغ جلائے رکھتے ہیں تو اس استاد کی روشنی کبھی ختم نہیں ہوتی۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔

