بھارتی فوج کی چنار کور نے 29 ستمبر کو نام نہاد آپریشن میں پاکستانی فوجی کو بطور دہشتگرد مارنے کا مضحکہ خیز گمراہ کن دعویٰ کیا.
30ستمبر کو بھارتی نشریاتی ادارے ’’اے این آئی‘‘ سمیت دیگر گودی میڈیا نے ایس ایس جی کمانڈو محمد آصف کی تصویر، شناخت اور فوجی پروفائل کا خوب ڈھنڈورا پیٹا.
یکم اکتوبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے حوالدار (ر) محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کر کے ایک اور بھارتی فالس فلیگ کا پردہ چاک کر دیا. تاریخی ہزیمت پر پردہ ڈالنے کے لئے گودی میڈیا نے مضحکہ خیز انداز میں ’’میں نا مانوں‘‘ کا پرچار شروع کر دیا.
انڈیا ٹوڈےنے اپنی رپورٹ میں بیانیہ بنایا کہ حوالدار آصف کی شخصی تفصیلات اور شکل تو میچ کر گئیں لیکن اب اس کا DNA بھی میچ کر کے دکھائیں.
جھوٹے انکاؤنٹر کی گمشدہ لاش جوانڈین چنار کور کے پاس ہے ، اس گمنام لاش کا فورینسک اور DNA پاکستان سے طلب کرنا؟ گودی میڈیا کا نہایت احمقانہ تبصرہ ہے.
حوالدار آصف کی تصاویر اور شاختی کارڈ کو ثبوت بنا کرجھوٹے دعوےانڈین میڈیا اور اداروں نے کیے، پاکستان نے صرف حقیقت بتائی۔ ہمیشہ کی طرح پاکستان کے حقیقت پر مبنی بیانیے کی بین الاقوامی میڈیا میں پذیرائی ہوئی.

