تحریر: محمدمظہررشید چودھری (03336963372)
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی بنیادی ضمانت ہوتی ہے۔ قوموں کی تعمیر صرف سڑکوں، عمارتوں اور معاشی منصوبوں سے نہیں ہوتی بلکہ اصل سرمایہ وہ نسل ہوتی ہے جو علم، شعور، کردار اور صلاحیت سے آراستہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ معاشروں نے ہمیشہ تعلیم کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھا۔ پاکستان میں بھی اگر ہم ایک مضبوط، باشعور اور باصلاحیت نسل کی تشکیل چاہتے ہیں تو سرکاری تعلیمی اداروں کے معیار، انتظامی نظام اور تدریسی کارکردگی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔اسی اہم اور بنیادی موضوع کے حوالے سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن (ایڈمن)محمد ریاض قمر سے (راقم الحروف)صدر سماجی تنظیم ’ماڈا‘ اوکاڑہ محمد مظہر رشید چودھری اور معروف سماجی ورکر و سابق سینئر نائب صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اوکاڑہ مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی ملاقات نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اس ملاقات کے دوران تعلیم کے فروغ، سرکاری سکولوں کی کارکردگی، انتظامی معاملات اور تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ یہ ملاقات اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے باشعور طبقات بھی اپنا کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن (ایڈمن) کا منصب محکمہ تعلیم کے انتظامی ڈھانچے میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ تعلیمی اداروں کی انتظامی نگرانی، محکمانہ ہدایات پر عمل درآمد، اساتذہ اور دیگر عملے سے متعلق انتظامی امور، سکولوں کے مسائل، دفتری ریکارڈ، شکایات اور متعلقہ معاملات میں افسران بالا کو معاونت فراہم کرنا اس نوعیت کے عہدے کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے۔ اس لیے سرکاری سکولوں کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے میں انتظامی افسران کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ایک سکول کی کامیابی صرف خوبصورت عمارت یا جدید فرنیچر سے نہیں ہوتی۔ ایک کامیاب تعلیمی ادارے کی اصل پہچان وہاں موجود تعلیمی ماحول، اساتذہ کی محنت، طلبہ کی باقاعدہ حاضری، تدریسی معیار، نظم و ضبط، والدین سے رابطے اور طلبہ کی عملی و اخلاقی تربیت سے ہوتی ہے۔ اگر ان تمام پہلوؤں کو مسلسل مانیٹر کیا جائے اور مسائل کی بروقت نشاندہی کے بعد مناسب اقدامات کیے جائیں تو سرکاری سکولوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔سرکاری سکول معاشرے کے کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کے لیے تعلیم کا سب سے اہم ذریعہ ہیں۔ بہت سے والدین اپنے بچوں کو مہنگے نجی تعلیمی اداروں میں داخل کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ایسے میں سرکاری سکول ہی ان کے بچوں کے بہتر مستقبل کی امید بنتے ہیں۔ لہٰذا ان اداروں میں معیاری تعلیم کی فراہمی دراصل عام آدمی کے بچے کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے مترادف ہے۔تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے صرف امتحانی نتائج کو بنیاد بنانا کافی نہیں۔ طلبہ میں تخلیقی سوچ، سوال کرنے کی صلاحیت، مطالعے کا شوق، اخلاقی تربیت، خود اعتمادی، نظم و ضبط اور معاشرتی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا بھی تعلیم کا لازمی حصہ ہے۔ اس مقصد کے لیے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید تدریسی طریقوں سے آگاہی اور سکولوں میں مثبت و محفوظ تعلیمی ماحول انتہائی ضروری ہے۔اسی طرح اساتذہ اور طلبہ کی حاضری بھی تعلیمی نظام کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایک استاد کی باقاعدہ موجودگی اور ذمہ داری کے ساتھ تدریسی فرائض کی انجام دہی براہِ راست طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اس لیے حاضری کے مؤثر نظام، سکولوں کے باقاعدہ معائنے اور انتظامی مسائل کے بروقت حل پر توجہ ضروری ہے۔ تاہم نگرانی کا مقصد صرف احتساب یا کارروائی نہیں ہونا چاہیے بلکہ جہاں مسئلہ موجود ہو وہاں اس کی بنیادی وجہ تلاش کرکے اصلاح کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔تعلیم کے فروغ میں والدین اور سول سوسائٹی کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ والدین اگر بچوں کی تعلیم، حاضری اور کردار سازی پر توجہ دیں اور سکول انتظامیہ کے ساتھ مثبت رابطہ رکھیں تو تعلیمی نتائج بہتر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح سماجی تنظیمیں تعلیمی مسائل کی نشاندہی، والدین میں شعور اجاگر کرنے، مستحق طلبہ کی معاونت اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ معاشرے کے مختلف طبقات جب سرکاری اداروں کے ساتھ مثبت اور تعمیری رابطہ قائم کرتے ہیں تو مسائل کو سمجھنے اور ان کے ممکنہ حل کے لیے نئے راستے سامنے آتے ہیں۔ ایسی ملاقاتیں باہمی مشاورت اور تعاون کے فروغ کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری سکولوں کی کارکردگی کا جائزہ صرف اعداد و شمار اور کاغذی رپورٹس کی بنیاد پر نہ لیا جائے بلکہ زمینی حقائق کو بھی سامنے رکھا جائے۔ ہر سکول کی ضروریات مختلف ہو سکتی ہیں۔ کہیں اساتذہ کی کمی مسئلہ ہو سکتی ہے، کہیں بنیادی سہولیات درکار ہوتی ہیں اور کہیں انتظامی یا تدریسی معاملات میں بہتری کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان مسائل کی نوعیت کو سمجھ کر ترجیحات طے کرنا ہی مؤثر تعلیمی منصوبہ بندی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ساتھ ہی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سکولوں اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے۔ مثبت کارکردگی کو سراہنے سے نہ صرف اساتذہ کا حوصلہ بلند ہوتا ہے بلکہ دوسرے اداروں میں بھی بہتر کارکردگی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح والدین، اساتذہ اور محکمہ تعلیم کے درمیان اعتماد پر مبنی رابطہ تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تعلیم میں بہتری کسی ایک فرد، ادارے یا محکمے کی ذمہ داری نہیں۔ یہ ایک مشترکہ قومی اور معاشرتی ذمہ داری ہے۔ حکومت وسائل فراہم کرے، محکمہ تعلیم مؤثر انتظامی نگرانی کرے، اساتذہ دیانت داری اور محنت سے تدریسی فرائض انجام دیں، والدین بچوں کی تعلیم پر توجہ دیں اور سماجی تنظیمیں مثبت کردار ادا کریں تو سرکاری سکولوں کو حقیقی معنوں میں علم و تربیت کے مراکز بنایا جا سکتا ہے۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن (ایڈمن) محمدریاض قمر سے ہماری ملاقات اسی اجتماعی احساس کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ اگر ایسی ملاقاتوں کو محض رسمی سرگرمی کے بجائے مسلسل مشاورت، عملی تجاویز اور مثبت تعاون کا ذریعہ بنایا جائے تو تعلیم کے شعبے میں دیرپا بہتری کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔آج ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک بہتر سکول صرف ایک بچے کا مستقبل نہیں بدلتا بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کے مستقبل پر اثر ڈالتا ہے۔ اگر ہم اپنے سرکاری سکولوں کو مضبوط بنا دیں، اساتذہ کو سہولیات اور اعتماد فراہم کریں اور طلبہ کو معیاری تعلیم و تربیت دیں تو یہی بچے کل ملک و قوم کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ بلاشبہ تعلیم پر توجہ دراصل مستقبل پر سرمایہ کاری ہے، اور اس سرمایہ کاری کا ثمر ایک باشعور، باکردار اور ترقی یافتہ معاشرے کی صورت میں سامنے آتا ہے٭

