بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت ریکارڈ 29.70 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ال نینو اور انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی مل کر عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کرسکتی ہیں۔
برسلز: موسمیاتی رجحان ال نینو کی شدت میں اضافے کے باعث 2026 دنیا کا گرم ترین سال بن سکتا ہے، جبکہ ماہرین نے 2027 میں بھی گرمی کے نئے عالمی ریکارڈ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین کی موسمیاتی نگرانی کی سروس کوپرنیکس نے بتایا ہے کہ بحرالکاہل کے اہم حصے نینو 3.4 میں ستمبر کے دوران سمندر کی سطح کا درجہ حرارت ریکارڈ 29.70 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ یہ سطح 1982-83، 1997-98 اور 2015-16 کے طاقتور ال نینو ادوار میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطحوں سے بھی زیادہ ہے۔
کوپرنیکس کے ڈائریکٹر کارلو بونتیمپو نے اے ایف پی کو بتایا کہ رواں سال جون میں سامنے آنے والا ال نینو غیر معمولی نوعیت کا ہے، تاہم فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ تاریخ کا سب سے طاقتور ال نینو ہے۔
ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندروں کا درجہ حرارت پہلے ہی بڑھ رہا ہے، جس سے موجودہ ال نینو کا ماضی کے واقعات سے موازنہ پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ کوپرنیکس کے مطابق ایک نئے پیمانے سے جائزہ لینے پر موجودہ ال نینو ابھی تک سابقہ واقعات سے زیادہ طاقتور ثابت نہیں ہوا، تاہم اس کی شدت خاصی زیادہ ہے۔
جاپان کے محکمہ موسمیات نے بھی گزشتہ جمعے کہا تھا کہ ال نینو کی شدت ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔
ال نینو کیا ہے اور اس سے گرمی کیوں بڑھتی ہے؟
ال نینو بحرالکاہل کے استوائی حصے میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں قدرتی اضافے کا موسمیاتی رجحان ہے۔ یہ دنیا کے مختلف علاقوں میں موسم کے معمولات تبدیل کرسکتا ہے، جس سے بعض مقامات پر خشک سالی اور کہیں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ رجحان انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی عالمی حدت کے اثرات کو بھی مزید بڑھا سکتا ہے۔
کوپرنیکس کے مطابق ستمبر میں دنیا بھر میں سمندر کی سطح کا اوسط درجہ حرارت 21.05 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو اسی مہینے کے لیے 2023 کے سابقہ ریکارڈ 20.92 ڈگری سے زیادہ ہے۔
اسی طرح اگست میں ریکارڈ گرمی کے بعد ستمبر دنیا کا اب تک کا دوسرا گرم ترین ستمبر رہا، جب سطح زمین کے قریب ہوا کا اوسط درجہ حرارت 16.27 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
2027 میں گرمی کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے
ماہرین کے مطابق ال نینو کا اثر اکثر اس کے عروج کے بعد اگلے سال عالمی درجہ حرارت میں زیادہ واضح ہوتا ہے، کیونکہ بحرالکاہل میں جمع ہونے والی حرارت فضا میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ رجحان عموماً ہر دو سے سات سال بعد سامنے آتا ہے اور تقریباً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے۔
کارلو بونتیمپو کا کہنا ہے کہ ماضی کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے ممکن ہے کہ 2026 کے بعد 2027 بھی گرمی کے نئے عالمی ریکارڈ قائم کرے۔ تاہم حتمی صورتحال کا انحصار ال نینو کی آئندہ شدت اور دیگر موسمیاتی عوامل پر ہوگا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ال نینو اور انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کا امتزاج دنیا کے مختلف حصوں میں شدید گرمی، خشک سالی اور سیلاب جیسے خطرات میں اضافہ کرسکتا ہے۔

