امریکی اسکول میں 16 سالہ لڑکے کی فائرنگ، 3 معصوم بچے اور استاد ہلاک

امریکی ریاست اوریگن کے شہر بینڈ میں ایک ایلیمنٹری اسکول میں فائرنگ کے واقعے میں تین بچے اور ایک استاد ہلاک ہوگئے، جبکہ ایک بچہ اور ایک اور استاد شدید زخمی ہیں۔

پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آور کی عمر 16 سال تھی، جسے موقع پر موجود ایک مسلح شہری نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔

خبر کے مطابق واقعہ جمعرات کی سہ پہر سلور ریل ایلیمنٹری اسکول میں پیش آیا۔ بینڈ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ مائیک کرانٹز نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکام کو ابتدائی طور پر ایک شخص کی جانب سے ایمرجنسی کال موصول ہوئی، جس نے اطلاع دی کہ ایک شخص نے لمبی بندوق سے اس کی گاڑی پر متعدد فائر کیے ہیں۔

اس کے کچھ ہی دیر بعد پولیس کو درجنوں کالز موصول ہوئیں کہ ایک مسلح شخص اسکول کی عمارت میں داخل ہوگیا ہے۔ دوپہر ایک بجے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہنگامی اطلاع دی گئی، جبکہ ایک منٹ بعد اسکول میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا۔

پولیس سربراہ کے مطابق ایک شہری نے مشتبہ حملہ آور کو دیکھا اور اس کا پیچھا کرتے ہوئے اسکول میں داخل ہوگیا، جہاں دونوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ شہری کی فائرنگ سے 16 سالہ مشتبہ حملہ آور ہلاک ہوگیا۔

پولیس کو اسکول سے پانچ، آٹھ اور 11 سال کے تین بچوں اور ایک استاد کی لاشیں ملیں۔ فائرنگ کے نتیجے میں سات سالہ بچہ اور ایک اور استاد شدید زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

حکام نے ہلاک ہونے والے بچوں، استاد، مشتبہ حملہ آور اور فائرنگ کرنے والے شہری کے نام جاری نہیں کیے، تاہم بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کو اطلاع دے دی گئی ہے۔

پولیس سربراہ مائیک کرانٹز نے کہا کہ واقعے کی جامع تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں اور مقامی برادری سے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی اپیل بھی کی۔

اوریگن کی گورنر ٹینا کوٹیک نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات پر غور کیا جائے گا، تاہم فی الحال متاثرہ خاندانوں اور برادری کو غم کی اس گھڑی میں ایک دوسرے کا سہارا بننے کی ضرورت ہے۔

واقعے کے محرکات اور فائرنگ کے پس منظر سے متعلق مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں