واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرے۔ روس اس تنازع کو ختم کرنا چاہتا ہے جبکہ جنگ میں ماسکو کو برتری حاصل دکھائی دیتی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو بھی جنگ کے خاتمے کے لیے آمادہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے روس کی فوجی پیش قدمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس ایک بڑی طاقت ہے جو مسلسل آگے بڑھ رہی ہے اور یوکرین کے وسیع علاقے پر قبضہ کر چکی ہے۔
جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کے سلسلے میں امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر نے بھی آن لائن شرکت کی۔
وٹکوف بدھ کو روس کا دورہ کرکے ماسکو کی قیادت کو یوکرین کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور مجوزہ تجاویز سے آگاہ کریں گے۔ ناروے کے وزیراعظم جوناس گہر اسٹورے نے اوسلو مذاکرات کو مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں ممکنہ طور پر دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقات کی راہ ہموار کرسکتی ہیں۔
فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب نے بھی کہا کہ امن عمل دوبارہ آگے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے اوسلو میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ زیلنسکی کے مطابق یوکرین کو روسی میزائل حملوں کے بارے میں پیشگی اطلاعات دوبارہ ملنا شروع ہوگئی ہیں۔ اس سے قبل کیف نے شکایت کی تھی کہ واشنگٹن نے روسی فضائی حملوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی روک دی ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ سے پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے لیے میزائلوں اور سیٹلائٹ پر مبنی اسٹارلنک نظام سے متعلق امور پر بھی بات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ روبیو سے آئندہ 48 گھنٹوں میں دوبارہ رابطے کی توقع رکھتے ہیں۔
یوکرینی صدر نے مزید کہا کہ اوسلو مذاکرات میں یوکرین کے لیے سکیورٹی ضمانتوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان میں نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسی ضمانتیں بھی شامل ہیں، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام اتحادیوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
زیلنسکی کے مطابق مختلف سکیورٹی تجاویز دستاویزات میں شامل ہیں، جنہیں وٹکوف روسی حکام کے ساتھ زیرِ بحث لائیں گے۔ یوکرین چاہتا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے اہم معاملات پر روس، یوکرین اور امریکا کے رہنماؤں کی مشترکہ ملاقات بھی ہو۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے یوکرین کو براہِ راست ہتھیاروں کی فراہمی بڑی حد تک روک دی ہے، تاہم یورپی ممالک امریکی اسلحہ خرید کر یوکرین کو فراہم کرسکتے ہیں۔ امریکا یوکرین کو انٹیلی جنس معلومات اور بعض تکنیکی معاونت بھی فراہم کرتا رہا ہے۔
معاملے سے واقف ایک ذریعے کے مطابق امریکی اسلحے کی بیشتر ترسیلات جاری ہیں، لیکن امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پیٹریاٹ میزائل روکنے والے نظام کے لیے یوکرین کی تازہ درخواستوں کی منظوری نہیں دی۔
دوسری جانب ٹرمپ کے روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے حالیہ اقدامات، جن میں روسی ڈیزل کی خریداری کا معاہدہ اور نئی پابندیوں میں نرمی شامل ہے، امریکی کانگریس کے بعض ارکان اور یورپی ممالک میں تشویش کا باعث بنے ہیں۔

