ٹرمپ کا ایران سے معاہدے کا عندیہ، مگر ایک گھنٹے میں جوہری تنصیب پر حملے کی دھمکی بھی دے دی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکا ایران کی مشتبہ جوہری تنصیب ’پکیکس ماؤنٹین‘ کو ایک گھنٹے کے اندر نشانہ بنا سکتا ہے۔

ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران جلد از جلد معاہدہ چاہتا ہے اور امریکا کے ساتھ سمجھوتا ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ’شدید نوعیت کے تبادلوں‘ کی اطلاع دی ہے۔

یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران نے سخت شرائط کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم سمندری راستہ ہے اور اس کی بندش یا محدود آمدورفت سے عالمی توانائی منڈی متاثر ہوسکتی ہے۔

مذاکرات میں پیش رفت کے اشاروں کے چند گھنٹے بعد امریکی حملوں سے متعلق ایک رپورٹ سامنے آگئی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکا نے حالیہ ہفتوں کے دوران ایران کے خلاف محدود نوعیت کے کئی حملے کیے ہیں، جنہیں خفیہ رکھا گیا تھا۔

ادھر ایرانی سرکاری میڈیا نے آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم پر مختصر وقفے سے پانچ دھماکوں کی اطلاع دی۔ ان اطلاعات نے خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے خدشات کو نمایاں کردیا۔

دوسری جانب فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ضرورت پڑنے پر ایران کے مشتبہ جوہری مرکز پکیکس ماؤنٹین کو ایک گھنٹے کے اندر نشانہ بنا سکتا ہے۔

ٹرمپ کے بقول امریکا ایران کی ممکنہ جوہری صلاحیت کو پہلے ہی تباہ کرچکا ہے، تاہم اب بھی پکیکس ماؤنٹین کو نشانہ بنانے کا آپشن موجود ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج جب چاہے اس مقام پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کارروائی کے لیے صرف ایک گھنٹہ درکار ہوگا۔

امریکا میں منگل کو وسط مدتی انتخابات ہونے جارہے ہیں، جن میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس میں اپنی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ، اس کے نتیجے میں ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور عوامی بے اطمینانی انتخابی مہم کے اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔

ایسے میں ٹرمپ کی جانب سے ایک طرف ایران کے ساتھ معاہدے کی امید ظاہر کرنا اور دوسری طرف مزید فوجی کارروائی کی دھمکی دینا واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی و عسکری کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم مذاکرات کے ممکنہ نتائج یا کسی حتمی معاہدے کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں