اسلام آباد کے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سے متعلق جے آئی ٹی انکوائری رپورٹ سامنے آگئی۔
جے آئی ٹی نے 9 سفارشات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی تھی، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد جے آئی ٹی رپورٹ سامنے لانے کا فیصلہ کیا گیا، ون کانسٹیٹیوشن سکینڈل میں جے آئی ٹی نے عبدالحفیظ شیخ کو ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔
عبدالحفیظ شیخ کے ساتھ سابق چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری، فیصل اعوان،اظہر چوہدری کو بھی ملوث قرار دیا گیا ہے، رپورٹ میں بریگیڈیئر نصرت اللہ اور مرحوم رائے نواز کھرل بھی ملوث قرار دئیے گئے ہیں ،
جے آئی ٹی نے کہا کہ عبدالحفیظ شیخ نے سی ڈی اے افسران کے ساتھ مل کر کام کیا، رپورٹ کے مطابق قومی خزانے کو نقصان، ملزمان اور ان کے کارندوں کو ناجائز منافع پہنچایا گیا، عبدالحفیط شیخ اور بی این پی کو ہر سرکاری پراجیکٹس کیلئے بلیک لسٹ کیا جائے، پروجیکٹ کا قانونی جائزہ لیا جائے،رہائشی استعمال کی اجازت بالکل نہ دی جائے۔
جے آئی ٹی نے کہا کہ زمین اور عمارتوں کی شفاف طریقے کے ذریعے دوبارہ نیلامی کی جائے، ایسے منصوبے کیلئے سیکیورٹی،سی سی اے اور ای پی اے کی کلیئرنس لازمی قرار دی جائے، عمارت میں فوری طور پر آگ سے بچاؤ کا مناسب سامان نصب کیا جائے، ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو وزارت خارجہ کا دفتری پتہ ہے، پروجیکٹ کا نام بدلا جائے، سی ڈی اے اصل خریداروں کو ان کی اصل رقم واپس اور سود بھی ادا کرے۔
جے آئی ٹی نے کہا کہ سی ڈی اے نے فیسیں وصول کرنے کے بعد ذمہ داری سے انکار کر دیا تھا، سی ڈی اے آرڈیننس کا مکمل جائزہ لیکر آزاد ماسٹر پلان کمیشن تشکیل دیا جائے، سی ڈی اے کا سارا ریکارڈ اور منظوریوں کو ڈیجیٹل کیا جائے،
ایسٹ، پلاننگ، انفورسمنٹ اور بلڈنگ کنٹرول کے افسران کے ہر 2 سال بعد تبادلے کیے جائیں، نیلامیوں اور معاہدوں کا تیسرے فریق سے قبل از وقت آڈٹ کروایا جائے، نیب اپنی تحقیقات تیز کرے اور 3 ماہ کے اندر عدالت میں ریفرنس دائر کرے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے جانچ پڑتال کیلئے مئی میں نیب سربراہی میں کمیٹی بنائی، کمیٹی میں ایف آئی اے،ایف بی آر،ایس ای سی پی اور خفیہ اداروں کے ارکان شامل ہیں، حکام کے مطابق ساڑھے 13ایکڑ پر مشتمل زمین صرف ہوٹل بنانے کیلئے دی گئی، تحقیقات میں ثابت ہوا کہ زمین کی بولی کے دھاندلی کی گئی۔
جے آئی ٹی کے مطابق پہلی نیلامی سی ڈی اے بورڈ کی منظوری کے بغیر منسوخ کی گئی، پھر ضوابط تبدیل کرکے دوسری بولی جاری کی گئی، بولی آنے کے بعد قوانین میں خلاف ضابطہ نرمی کی گئی، بورڈ منظوری کے بغیر ہی اونچائی،کورڈ ایریا اور پارکنگ کی حدیں نرم کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق دوسری بولی جیتنے والے ایک چار رکنی کنسورشیم تھی، لیز ایسی کمپنی کو دی گئی جو کنسورشیم میں شامل ہی نہیں تھی، سی ڈی اے نے کبھی جانچ ہی نہیں کی کہ ان کا آپس میں کیا تعلق تھا؟ لیز پر دستخط ہونے سے صرف 3 دن قبل بینک گارنٹی کی شرط ختم کی گئی، بینگ گارنٹی کی شرط ہٹانے کا براہ راست فائدہ ڈویلپر کو پہنچا، جوائنٹ وینچر سے متعلق پیش کردہ کاغذی کارروائی بھی مشکوک تھی۔
جے آئی ٹی نے کہا کہ جوائنٹ وینچر کا معاہدہ 2012 میں سی ڈی اے کے ریکارڈ میں لایا گیا، جوائنٹ وینچر کا معاہدہ بھی ڈیل کے کئی سال بعد کا ہے، کنسورشیم کے 2 ارکان کے دستخط جعلی،ایک گواہ اس تاریخ کو بیرون ملک تھا، لیز کی رجسٹریشن سب رجسٹرار کی بجائے رینٹ کنٹرولر سے کرائی گئی، ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے اپارٹمنٹس غیرقانونی طور پر فروخت کئے گئے، پروجیکٹ کی منظوری سروس اپارٹمنٹس کے حامل فائیو اسٹار ہوٹل کے طور پر دی گئی، 254 اپارٹمنٹس رہائشی یونٹس کے طور پر 99 سال کی ذیلی لیز پر بیچ دیئے گئے۔

