کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان بھر میں سات روزہ انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ آغاز کردیا گیا۔ صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے کوئٹہ میں کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کیا اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان بھر میں انسدادِ پولیو مہم جاری ہے جس کے دوران 26 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے،،،مہم میں 11 ہزار سے زائد ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جبکہ بچوں کو وٹامن اے کے قطرے بھی پلائے جائیں گیانہوں نے بتایا کہ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ٹیموں کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے،،،بخت محمد کاکڑ نے واضح کیا کہ اگرچہ بلوچستان میں رواں سال پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تاہم صوبے میں اب بھی پولیو وائرس کی موجودگی تشویش کا باعث ہیان کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس کم عمر بچوں کو متاثر کر سکتا ہے اس لیے مہم کی کامیابی کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،،،صوبائی وزیر صحت بخت کاکڑ نے کہا کہ باڈر پوائنٹس پر پولیو ایڈمنسٹریشن ٹیموں کی موجودگی ضروری ہے تاکہ وائرس کی ممکنہ منتقلی کو روکا جا سکیانہوں نے کہا ہے کہ محکمہ صحت نے ڈینگی سے بچاؤ کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو مختلف اضلاع میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں گی،،بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کا محکمہ صحت تیزی سے اصلاحات کے عمل سے گزر رہا ہے اور پروپیگنڈے کے ذریعے ہمیں ریفارمز سے پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹر سیاست کریں گے تو ہسپتال ویران ہو جائیں گے،،صوبائی وزیر صحت نے یہ بھی واضح کیا کہ 2011 سے بیرونِ ملک بیٹھ کر تنخواہیں لینے والے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی شروع کی جا رہی ہے تاکہ محکمے میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کو بہتر بنانے کے لیے سخت فیصلے کرنا وقت کی ضرورت ہے بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ وہ ینگ ڈاکٹرز کے ساتھ غیر ضروری محاذ آرائی نہیں چاہتے تاہم ڈاکٹروں کو بازاری زبان استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں صوبائی وزیر صحت نے ڈاکٹر عائشہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عائشہ نے بلوچستان کا نام روشن کیا ہے اور ہمیں ان پر فخر ہے بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ صوبے میں صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو بہترین طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں۔

