وزیر صحت کی زیر صدارت پی پی ایچ آئی سندھ کی کارکردگی کاجائزہ اجلاس

کراچی(این این آئی) وزیر صحت و بہبود آبادی ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی زیر صدارت پی پی ایچ آئی سندھ کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں پی پی ایچ آئی کے افسران، محکمہ صحت کے افسران اور متعلقہ اضلاع کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں پی پی ایچ آئی کی کارکردگی، مسائل اور حل کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔ مختلف اضلاع میں موجود بنیادی مراکز صحت پر ضروری سہولیات، عملے کی دستیابی، اے این سی/ پی این سی، ٹی بی، فیملی پلاننگ، غذائیت اور ادویات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی جائزہ لیا گیا اور بعض اضلاع میں سہولیات کی عدم دستیابی پر وزیر صحت کی جانب سے برہمی کا اظہار کیاگیا۔ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا تھا کہ 24 گھنٹے لیبر رومز کی مکمل فعالیت کو یقینی بنایا جائے۔ ہر ممکن تعاون کے لیے موجود ہوں کام معیاری اور شفاف ہونا چاہیے۔ جہاں بھی سہولیات کا فقدان ہے اسے ٹھیک کریں۔ صوبے میں ادویات کی دستیابی سے متعلق وزیر صحت نے حکم دیاکہ 24 گھنٹے لیبر رومز کی مکمل فعالیت کو یقینی بنایا جائے. ہر ممکن تعاون کے لیے موجود ہوں مگر کام معیاری اور شفاف ہونا چاہیے. جہاں بھی سہولیات کا فقدان ہے وہاں فوری بہتری لائی جائے۔ صوبے میں ادویات کی دستیابی سے متعلق وزیر صحت نے حکم دیا کہ کراچی ویسٹ اور کشمور سمیت تمام اضلاع میں ہنگامی ادویات ہر وقت دستیاب ہونی چاہئیں. گوداموں کا قیام فوری طور پر یقینی بنایا جائے اور ادویات کا ذخیرہ محفوظ رکھا جائے۔ غلط رپورٹنگ برداشت نہیں کی جائے گی۔ فیلڈ میں جو صورتحال ہے وہی رپورٹ کی جائے۔ تمام اشیا کے لیے 15 دن کی بفر اسٹاک لازمی رکھی جائے اور جہاں اسٹاف دستیاب نہیں وہاں فوری تعیناتی کی جائے۔ کسی ڈسپنسر کے رحم و کرم پر چلنے والی سہولت نہیں دیکھنا چاہتی۔ وزیر صحت نے کہا کہ فیملی پلاننگ ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ ہر حاملہ خاتون کو مکمل طبی معاونت اور ضروری وٹامنز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اجلاس میں یونیسف کو ادویات کی فراہمی کے حوالے سے شراکت داری میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ بہتر معیار کی ادویات حاصل کی جاسکیں۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ صوبے میں ہر سال تقریبا 18 لاکھ خواتین حاملہ ہوتی ہیں جن میں سے 8 لاکھ خواتین کی دیکھ بھال پی پی ایچ آئی کے مراکز میں کی جاتی ہے۔ غذائیت کے مراکز کی کارکردگی پر گفتگو کے دوران وزیر صحت نے پرائیویٹ نیوٹریشن سینٹرز کے حوالے سے تفصیلی پلان طلب کیا اور کہا کہ غذائیت کے پروگرامز کی فعالیت میں مزید بہتری لائی جائے۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے تمام افسران کو ہدایت دی کہ صوبے کے تمام مراکز صحت میں ایمرجنسی ٹرے، موبائل لائٹس اور ٹوائلٹس کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ادویات کی خریداری اور ترسیل فوری طور پر مکمل کی جائے اور ہر مرکز صحت پر بنیادی طبی سہولیات دستیاب ہوں۔ وزیر صحت نے اجلاس کے اختتام پر واضح ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام اضلاع کے افسران جلد از جلد مرمت اور دیکھ بھال کا عمل مکمل کریں۔ 15 دن کا بفر اسٹاک برقرار رکھیں اور کسی بھی ضلع میں سہولیات کی کمی برداشت نہیں کی جائے گی۔ چاہتی ہوں کہ سندھ کے ہر مرکز صحت میں سہولیات مکمل طور پر دستیاب ہوں، ماں اور بچے کو باعزت، محفوظ اور معیاری طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ یہی حکومت سندھ کا بنیادی مقصد اور عوام سے کیا گیا وعدہ ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں