لاہور (این این آئی) پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) کے پیٹرن انچیف میاں سہیل نثار،چیئرمین سید محمود غزنوی،سینئر وائس چیئرمین مدثر مسعود چودھری اور وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن نے کہا ہے کہ ایف بی آر میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور نظام کی آٹومیشن پر برق رفتاری سے پیشرفت کرنے کی ضرورت ہے،پائیدار معیشت کے لئے پالیسیوں میں تسلسل لایا جائے،ملک میں جمود کا شکار براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے رجحان کو تبدیل کرنے کیلئے سنجیدگی سے حکمت عملی مرتب کی جائے۔ مشترکہ بیان میں پیاف کے عہدیداروں نے کہا کہ ایف بی آر کے سٹرکچر کو مضبوط بنیاد فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس کیلئے جامع اسٹڈی رپورٹ تیار کرائی جائے، ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کو سامنے رکھ کر توازن کے ساتھ اقدامات تجویز کئے جائیں۔ ہمارے ہاں پالیسیوں کے تسلسل کو بھی اہمیت نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے سرمایہ کار تذبذب کا شکار رہتے ہیں، جب تک مقامی سرمایہ کار مطمئن نہیں ہوں گے بیرون ممالک سے سرمایہ کاری کو راغب نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت سے سرمایہ کار ایسے ہیں جو بیرون ممالک سے جوائنٹ ونچر کے ذریعے سرمایہ کاری لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن پالیسیوں کے فقدان اور مختلف محکموں کی رکاوٹ انہیں اس سے باز رکھے ہوئے ہے بلکہ یہ سرمایہ کار بیرون ممالک منتقل ہو رہے ہیں یا اس کی منصوبہ بندی میں لگے ہوئے ہیں۔ پیاف کے عہدیداروں نے مزید کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں اور برآمد کنندگان کیلئے مکمل طو رپر الگ سے بااختیار کونسلتشکیل دے جس میں نجی شعبے کو بھی نمائندگی دی جائے تاکہ پالیسیوں کے سو فیصد نتائج برآمد ہو سکیں۔

