سال 2025ء ملکی تاریخ میں ایک ایسے عہد ساز سنگ میل کے طور پر ابھرا ہے جس نے پاکستان کے عالمی تشخص کو ایک نئے اور طاقتور بیانیے میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔
2025ء پاکستان کے لیے نہ صرف معاشی بحالی اور استحکام کا سال رہا بلکہ دفاعی، سفارتی، کھیلوں اور سائنسی محاذوں پر بھی مملکت خداداد نے ایسی شان دار کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن کی مثال گذشتہ دہائیوں میں نہیں ملتی۔
دفاعی کامیابیاں
کسی بھی ملک کے لیے اس کی دفاعی صلاحیت اہم ترین ہوتی ہے، لہٰذا اس رپورٹ میں پاکستان کی عالمی سطح پر کامیابیوں کا آغاز بھی اسی سے کرتے ہیں:
مئی 2025ء میں پاکستان کو بھارت کے خلاف حاصل ہونے والی دفاعی برتری نے خطے میں طاقت کے توازن کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا۔ دنیا پر واضح ہوگیا کہ انتہا پسند ہندو تنطیموں کے زیر اثر بھارت کی کٹھ پتلی مودی سرکار ایک جارح حکومت ہے جو نہ صرف بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پر زمین تنگ کیے ہوئے ہے بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں دہشت گرد سرگرمیوں کے علاوہ خاص طور پر اپنے ہی خطے کے امن کو بھی داؤ پر لگائے ہوئے ہے۔
مئی میں پاک فوج کے ہاتھوں بھارت کی بدترین شکست پر آرمی چیف سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ بعد ازاں واشنگٹن کے ایوان سے لے کر اقوام متحدہ تک پاکستان کی تزویراتی اہمیت کا ایسا اعتراف کیا گیا، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
اسی طرح معاشی محاذ پر افراطِ زر میں تاریخی کمی، جی ڈی پی میں نمایاں اضافے اور کھیلوں کے میدانوں میں عالمی اعزازات نے پاکستان کی سافٹ پاور کو عالمی سطح پر مستحکم کردیا۔
مئی 2025ء کا معرکہ: دفاعی برتری اور آپریشن بنیان المرصوص:
مئی 2025ء نے پاکستان کی دفاعی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ اس مہینے میں بھارتی جارحیت کا پاک فوج نے منہ توڑ جواب دے کر دشمن کا غرور خاک میں ملایا اور اسے شرمناک شکست سے دوچار کیا۔
بھارت کی جانب سے جنگ مسلط کرنے کی اس ناکام کوشش کا پس منظر 22 اپریل 2025ء کو بھارتی زیر قبضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے ایک حملے سے تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے ۔
بھارت نے حسبِ روایت اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا گودی میڈیا کے ذریعے زہریلا پروپیگنڈا شروع کردیا، جس کے بعد مودی سرکار نے ’’آپریشن سندور‘‘ کے نام سے ایک اشتعال انگیز فوجی مہم کا آغاز کیا، تاہم پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے’’آپریشن بنیان المرصوص‘‘ کے ذریعے اس جارحیت کا ایسا جواب دیا، جسے نہ صرف بھارت کی آئندہ نسلیں یاد رکھیں گی بلکہ پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت نے دنیا کو حیران کردیا۔
فضائی معرکہ اور تکنیکی غلبہ
7 مئی 2025ء کی رات بھارتی فضائیہ نے مختلف مقامات پر بزدلانہ طور پر میزائل اور فضائی حملے کرنے کی کوشش کی، جس پر پاکستان ایئر فورس نے فوری طور پر ردعمل دیتے ہوئے ایک ایسا فضائی دفاعی نظام متحرک کیا، جس نے بھارتی ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔
اس فضائی جنگ میں مجموعی طور پر 114 (یا 125) طیاروں نے حصہ لیا، جن میں میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان کے 42 اور بھارت کے 72 طیارے شامل تھے اور یہ گزشتہ کئی دہائیوں میں ’’بیونڈ ویژول رینج‘‘ (BVR) کی سب سے بڑی جنگی سرگرمی تھی، جس میں طیاروں نے 100 کلومیٹر سے زائد کے فاصلے سے ایک دوسرے کو نشانہ بنایا۔
اس جنگ کو پاکستان نے معرکہ حق کا عنوان دیا، جس میں پاکستان کی مسلح افواج نے نے اپنی تکنیکی اور آپریشنل برتری ثابت کی۔
آزاد میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے رافیل، مگ-29، ایس یو-30 ایم کے آئی طیاروں اور اسرائیلی ساختہ آئی اے آئی ہیرون ڈرون کو خاک چٹا کر بھارتی غرور زمین میں دفن کردیا۔

