عمران یعقوب خان
بنگلہ دیش میں ہونے والے انتخابات کے نتائج آپ کے سامنے آ چکے ہیں۔ ہمارے اس برادر مسلم ملک میں جس تبدیلی نے جولائی 2024ء میں انگڑائی لینا شروع کی تھی‘ اس کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہو گیا۔ کچھ تبدیلیاں اور رونما ہوں گی اور پھر بنگلہ دیش مکمل طور پر بھارت کے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔ حسینہ واجد نے اپنے 15سالہ دورِ حکومت میں جس طرح اپنے ملک کو بھارت کا بغل بچہ بنائے رکھا اور جس طرح بنگلہ دیش کی ساکھ‘ سلامتی‘ سالمیت‘ خود مختاری اور داخلی استحکام کو نقصان پہنچایا اس طرح کوئی حکمران اپنے ملک اور اپنے عوام کے ساتھ نہیں کرتا۔ شیخ حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں بنگلہ دیش کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ ہوتے کچھ وقت لگے گا لیکن اس کے بعد بنگلہ دیش ایک نیا بنگلہ دیش بن کر ابھرے گا جس کی اپنی آزادانہ پالیسیاں ہوں گی اور اپنے خود مختارانہ منصوبے۔ یہ وقت اب یقینا دور نہیں۔بی بی سی کے مطابق بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے پاکستان کے ساتھ اپنے روابط کو آگے بڑھایا۔ دونوں ممالک کے مابین تجارتی روابط کو فروغ دیا گیا جبکہ دونوں ممالک نے ویزے کے اجرا کو آسان کرنے کے ساتھ ساتھ فلائٹ آپریشن بھی بحال کیا ہے۔
پہلے تھوڑی سی بات بنگلہ دیش کے عام انتخابات کی اس کے بعد مزید بات کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں اب کیا کیا تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ حالیہ الیکشن میں 300میں سے 299انتخابی حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے۔ ایک حلقے میں امیدوار کی وفات کے باعث ووٹنگ ملتوی کی گئی۔ انتخابات میں 50سیاسی جماعتوں نے شرکت کی۔ 12کروڑ 70لاکھ سے زائد ووٹرز نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ عام انتخابات کے ساتھ ساتھ جولائی نیشنل چارٹر پر ریفرنڈم بھی منعقد کیا گیا۔ ووٹرز نے دو بیلٹ پیپرز پر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ سفید بیلٹ پیپرپر اپنے حلقے کا نمائندہ چننے کیلئے ووٹ ڈالے جبکہ گلابی بیلٹ پیپر پر جولائی نیشنل چارٹر کی حمایت یا مخالفت میں ووٹ کاسٹ کیا گیا۔ یاد رہے کہ جولائی نیشنل چارٹر میں 32جماعتوں نے آئینی اصلاحات کا مشترکہ ایجنڈا پیش کیا تھا۔ بنگلہ دیش کے عوام نے نئی حکومت ہی نہیں چنی‘ اپنے ملک کو نئی نہج نئی جہت دینے کے لیے جولائی نیشنل چارٹر کو بھی بھاری اکثریت سے منظور کر لیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے اپنے بیان میں کہا کہ غیر قانونی اور غیر آئینی ذرائع سے اقتدار سنبھالنے والے محمد یونس کی جانب سے کروائے گئے نام نہاد عام انتخابات ایک سوچی سمجھی سازش اور مذاق ہے‘ عوامی لیگ اور ووٹرز کے بغیر ایک دھوکہ دہی پر مبنی انتخابی عمل ترتیب دیا گیا۔ ان کا یہ بیان خلاف ِتوقع نہیں لیکن اچھی بات یہ ہوئی کہ نریندر مودی نے بنگلہ دیشی انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے طارق رحمن کو مبارک باد دی ہے۔ اب اس بارے میں میرے کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں کہ انہوں نے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے پہلے شیخ حسینہ واجد سے کنسلٹ کیا یا نہیں۔
پاکستان کی طرح بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں بھی نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم رہا۔ 44 فیصد ووٹرز کی عمر 18سے 37 برس کے درمیان تھی۔ اس طرح 45لاکھ 70ہزار نوجوانوں نے پہلی بار اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیالیکن یہ بات بڑی حیرت انگیز ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹ دینے والی نوجوانوں کی نئی سیاسی جماعت نے بہت کم نشستیں حاصل کیں۔ خیر یہ آغاز ہے۔ آگے چل کر معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔
پاک بھارت تعلقات‘ پاک چین دوستی ‘ پاکستان کے ساتھ بنگلہ دیش کے فروغ پاتے معاملات‘ بھارت بنگلہ دیش اختلافات اوربھارت افغانستان گٹھ جوڑ کے تناظر میں جنوبی ایشیا میں حالات و واقعات کی جو نئی الائنمنٹ ہو رہی ہے اس کو سامنے رکھیں تو یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ خطے میں کسی کو کسی کے ساتھ بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے سوائے بھارت کے جسے سب کے ساتھ مسائل کا سامنا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی ہٹ دھرمیوں نے بنگلہ دیش ہی کو نہیں خطے کے تمام ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ نقصان سیاسی ہے اور معاشی بھی‘ ثقافتی ہے اور معاشرتی بھی۔ اسی تناظر میں کھیلوں کے میدان میں بھارتی کج ادائیوں کا خمیازہ تو بنگلہ دیش نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے آؤٹ ہو کر تازہ تازہ بھگتا ہے۔ پاکستان تو ایک عرصے سے بھگت رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کے ممالک کو کبھی نئی آئی سی سی بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے اور کبھی سارک جیسی اہم اور خطے کی تقدیر بدلنے کی اہلیت کی حامل تنظیم کا متبادل ڈھونڈنے کا قصد کیا جاتا ہے۔
پہلے بھی اپنے کسی کالم میں عرض کیا تھا کہ انہی حرکتوں کی وجہ سے بھارت اب خطے میں تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ اس کی نہیں بنتی‘ چین اس کا مخالف ہے‘ نیپال اس سے شاکی ہے‘ بنگلہ دیش کو تو بھارت نے دہائیوں تک یرغمال بنائے رکھا۔ بھوٹان اور مالدیپ کے ساتھ بھی بھارت کے تعلقات کسی طور خوشگوار نہیں ہیں۔ کیا اب وقت آ نہیں گیا کہ خطے کے سبھی ممالک بھارت کے ہاتھوں یرغمال بننے کے بجائے ہندتوا کی عقل ٹھکانے لگائیں۔ گزشتہ برس مئی میں پاکستان نے بھارت کی جو پھینٹی لگائی اس کے بعد وہ پاکستان کی طرف بری نگاہ سے دیکھنے کی کوشش نہیں کرے گا‘ لیکن ایسا ہی تحفظ خطے کے دوسرے ممالک کو بھی چاہیے۔ عبوری دور میں یعنی انتخابات سے پہلے بنگلہ دیش پاکستان کے خاصا قریب آ چکا ہے۔ وہاں چونکہ پرو پاکستان حکومت بننے جا رہی ہے تو امکان ہے کہ پاک بنگلہ دیش تعلقات میں بہتری کا یہ سلسلہ آگے بھی چلتا رہے گا۔ اس ایشو کا جائزہ لیا جانا چاہیے کہ پاکستان چین کی مدد سے بنگلہ کے تحفظ اور سلامتی کی خاطر اس کیساتھ ایک دفاعی معاہدہ کر سکتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ تاریخی برادرانہ اور کثیر جہتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے بی این پی کے سربراہ طارق رحمن کو فون پر مبارک باد دی اور انہیں جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ طارق رحمن وزیر اعظم بننے کے بعد جن ممالک کے اولین دورے کریں گے ان میں پاکستان بھی شامل ہو گا۔
میرے خیال میں پاکستان‘ بنگلہ دیش اور چین کو اب اس بات پر متفق ہو جاناچاہیے کہ بھارت اگر ان تینوں میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کرے تو تینوں مل کر اس کی اس چکن نیک پر وار کریں گے جو خاصی پتلی ہے اور جس کو مروڑنے میں زیادہ طاقت بھی استعمال نہیں کرنا پڑے گی۔ میں نے سطورِ بالا میں جس پاکستان ‘ چین‘ بنگلہ دیش اتحاد کی بات کی‘ وہ اسی تناظر میں ہے۔ بنگلہ دیش کی نئی قیادت ایک ایسے وقت پر اقتدار سنبھال رہی ہے جب جنوبی ایشیا میں تبدیلی کی ہوائیں تیزی سے چلنا شروع ہو چکی ہیں۔ وقت کے ساتھ قدم ملا کر آگے بڑھنے میں ہی سب کی عافیت ہے۔
Load/Hide Comments

