تحریر: محمد مظہررشید چودھری (03336963372)
عالمی یومِ ریڈیو کے موقع پر اوکاڑہ میں منعقد ہونے والی تقریب محض ایک رسمی سرگرمی نہیں تھی بلکہ یہ اس حقیقت کی جیتی جاگتی تعبیر تھی کہ آواز جب خلوص، ذمہ داری اور مقصد کے ساتھ بلند ہو تو وہ دلوں کو جوڑ دیتی ہے۔ ایف ایم 105.4 اوکاڑہ میں ہونے والی یہ پروقار تقریب اس احساس کی تجدید تھی کہ ریڈیو آج بھی انسانوں کے درمیان رابطے، اعتماد اور آگاہی کا مضبوط وسیلہ ہے۔تقریب کا آغاز اس گرمجوش ماحول سے ہوا جس میں مہمانوں کا استقبال محض رسمی انداز میں نہیں بلکہ احترام اور اپنائیت کے جذبے کے ساتھ کیا گیا۔ اسٹیشن منیجر محمد زاہد حنیف، راقم الحروف (اینکر پرسن و کالم نگار محمد مظہر رشید چودھری) اور انچارج ٹرانسمیشن ریڈیو آواز اوکاڑہ میڈم راحیلہ ارشد نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ استقبالیہ لمحات میں ہی یہ واضح ہو گیا تھا کہ یہ اجتماع محض کیک کٹنگ کی تقریب نہیں بلکہ ایک فکری اور سماجی وابستگی کا اظہار ہے۔تقریب میں سیاسی و سماجی شخصیت فیاض ظفر چودھری، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن فاروق اشرف سنگوکا، جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن طارق نسیم منگن، ڈی ایس پی تصدق حسین کھچی، پرنسپل ڈی پی ایس اسکول اینڈ کالج پروفیسر ظفر علی ٹیپو، ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) شعبہ خواتین مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ، انچارج تحفظ مرکز ڈی پی او آفس اختر چودھری، نائب پی آر او ڈی پی او علی اکبر، کنٹرول روم انچارج ریسکیو سلیم مسعود، میڈیا کوآرڈینیٹرریسکیو عدنان، ڈاکٹر منیر حسین اور میڈم عروج سمیت دیگر معززین کی شرکت نے تقریب کو وقار اور معنویت عطا کی۔ اس کے علاوہ آرجے سونیا انور، آرجے عائشہ خان، آرجے منیر چودھری اور آرجے صابر علی کی موجودگی نے اس تقریب میں زندگی کی وہ روانی شامل کر دی جو ریڈیو کی پہچان ہے۔کیک کٹنگ کی تقریب سادہ تھی مگر اس سادگی میں ایک علامتی وقار تھا۔ یہ اس بات کی یاد دہانی تھی کہ ریڈیو صرف آواز کی ترسیل نہیں بلکہ احساس کی ترسیل بھی ہے۔ جب الفاظ سچائی کے ساتھ ادا ہوں تو وہ محض سنائی نہیں دیتے بلکہ محسوس بھی کیے جاتے ہیں۔ تقریب کے شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ریڈیو آج بھی عوامی شعور بیدار کرنے کا موثر ذریعہ ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو معلومات بھی دیتی ہے، رہنمائی بھی کرتی ہے اور تفریح بھی فراہم کرتی ہے۔ریڈیو کی سب سے بڑی طاقت اس کی رسائی ہے۔ جہاں جدید ٹیکنالوجی کبھی کبھی فاصلے پیدا کر دیتی ہے، وہاں ریڈیو فاصلے کم کرتا ہے۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے یہ صرف خبر کا ذریعہ نہیں بلکہ تعلق کا احساس بھی ہے۔ مقررین نے اس امر کو اجاگر کیا کہ ڈیجیٹل دور کے تمام تر ذرائع کے باوجود ریڈیو کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ اس کی ضرورت مزید واضح ہو گئی ہے۔اس تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی موجودگی نے اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ ریڈیو معاشرے کے ہر طبقے کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ تعلیمی میدان میں یہ شعور اور آگاہی کا ذریعہ ہے، سماجی سطح پر ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے اور انتظامی سطح پر عوام تک بروقت معلومات پہنچانے کا موثر وسیلہ بنتا ہے۔ یہی ہمہ جہتی کردار ریڈیو کو منفرد بناتا ہے۔ریڈیو سے وابستہ افراد کی خدمات کا اعتراف بھی اس تقریب کا اہم پہلو تھا۔ وہ لوگ جو مائیک کے پیچھے رہ کر معاشرے میں امید اور اعتماد کی فضا قائم رکھتے ہیں، دراصل خاموش خدمت گزار ہیں۔ آرجیز کی موجودگی نے اس حقیقت کو مزید اجاگر کیا کہ ریڈیو صرف معلومات نہیں دیتا بلکہ جذبات کو بھی زبان دیتا ہے۔تقریب کے دوران ایک مشترکہ احساس بار بار ابھرتا رہا اور وہ تھا اعتماد۔ ریڈیو اور سامع کے درمیان یہ اعتماد ہی اصل رشتہ ہے۔ لوگ ریڈیو کو سنتے ہیں کیونکہ وہ اس پر یقین کرتے ہیں۔ یہ یقین ہی ریڈیو کو زندہ رکھتا ہے اور یہی یقین اسے معاشرے کی دھڑکن بناتا ہے۔عالمی یومِ ریڈیو کی یہ تقریب اس حقیقت کی یاد دہانی تھی کہ جدید ذرائع ابلاغ کی بھرمار کے باوجود ریڈیو اپنی انفرادیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ وہ وسیلہ ہے جو نہ صرف خبر سناتا ہے بلکہ حالات کی نزاکت کو بھی محسوس کراتا ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو خوشی کو جشن اور دکھ کو تسلی میں بدل دیتی ہے۔تقریب کے اختتام پر جو پیغام ابھر کر سامنے آیا وہ امید کا پیغام تھا۔ امید کہ ریڈیو آنے والے وقتوں میں بھی اسی طرح لوگوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنا رہے گا۔ امید کہ یہ آوازیں معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دیتی رہیں گی۔ امید کہ سچائی اور اعتماد کی روایت برقرار رہے گی۔یہ تقریب دراصل آواز کی طاقت کا جشن تھی۔ یہ اس یقین کی تجدید تھی کہ جب الفاظ خلوص کے ساتھ ادا ہوں تو وہ دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ اوکاڑہ میں منعقد ہونے والی یہ تقریب اس بات کی گواہی تھی کہ ریڈیو صرف ایک ذریعہ ابلاغ نہیں بلکہ ایک احساس ہے، ایک تعلق ہے، ایک امید ہے۔ریڈیو زندہ ہے کیونکہ اس کے ساتھ لوگوں کا اعتماد زندہ ہے۔ اور جب اعتماد زندہ ہو تو آواز کبھی مدھم نہیں پڑتی۔ یہی اس تقریب کا حاصل تھا اور یہی اس کی اصل معنویت بھی٭


