کوئٹہ(این این آئی)فیڈرل لیویز فورس کے ریٹائرڈ ملازمین کا اپنے مطالبات کے حل کیلئے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ اتوار کو 53ویں روز بھی جاری رہا مختلف سیاسی جماعتوں اورملازمین تنظیموں کے رہنماؤں نے کیمپ آکر احتجاج پربیٹھے فیڈرل لیویز فورس کے ریٹائرڈ ملازمین سے اظہاریکجہتی کیا اورانہیں ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔اس موقع پربات چیت کرتے ہوئے فیڈرل لیویز فورس کے ریٹائرڈ ملازمین لال جان مری،تاج محمد، شاہ محمد، عنایت اللہ اوردیگر نے کہا کہ فیڈرل لیویز کے ریٹائرڈ ملازمین گزشتہ تین سال سے اپنے قانونی اورآئینی حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی نے 27مئی 2024ء کو ہمارے کیمپ آکر ہمارے مطالبات کو جائز قراردیتے ہوئے انہیں حل کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال ہمارے جائز مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ میر شعیب نوشروانی،وزیرصحت بخت کاکڑ، اسپیشل سیکرٹری ہوم ناصر دوتانی، ڈی جی لیویز عبدالغفار مگسی پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی جس کے ساتھ مذاکرات میں طے پایا کہ لیویز ریٹائرڈ ملازمین کو صوبائی حکومت گولڈن ہینڈسیک کے طورپر رقم دے گی جس پر فیڈرل لیویز کے نمائندوں نے اتفاق کیا صوبائی کابینہ اور صوبائی اسمبلی سے منظوری کے باوجود تاحال اس مسئلے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں فیڈرل لیویز فورس کے ریٹائرڈ ملازمین نے اپنے مطالبات کے حل کیلئے پریس کلب کے سامنے شدید سردی میں تادم مرگ بھوک ہڑتال کی اس دوران ہمارا ایک ساتھی عبدالحلیم مندوخیل انتقال کرگیا جس کے بعد رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹرمحمدنواز نے احتجاجی کیمپ آکر ہماری تادم مرگ بھوک ہڑتال ختم کروائی۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل لیویز فورس کے ریٹائرڈ ملازمین اپنے جائز مطالبات کے حل تک احتجاج جاری رکھیں گے وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی اورصوبائی حکومت فوری طور پراپنے وعدے پرعملدرآمدکرتے ہوئے لیویز فورس کے ملازمین کے مطالبات تسلیم کرے۔

