اداریہ
برصغیر اور ایرانی سطحِ مرتفع کے سنگم پر پھیلا ہوا تاریخی خطۂ بلوچستان آج تین ریاستوں میں منقسم ہے بلوچستان، سیستان و بلوچستان اور نمروز۔ سرحدیں بدلتی رہیں، مگر زمین، زبان اور لوگوں کی یادداشت میں ایک مشترک تاریخ آج بھی سانس لیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تقسیم محض جغرافیائی ہے، یا اس نے سیاسی، معاشی اور سماجی امکانات کو بھی مختلف سمتوں میں موڑ دیا ہے؟
سب سے پہلے حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا تینوں خطے ریاستی ڈھانچوں کے اندر رہتے ہوئے بھی ترقی کے اشاریوں میں پیچھے ہیں۔ وسیع رقبہ، قدرتی وسائل، ساحلی پٹی، معدنی ذخائر اور سرحدی تجارت کے مواقع یہ سب موجود ہیں مگر مقامی آبادی کی اکثریت بنیادی سہولیات، معیاری تعلیم، صحت اور روزگار سے محروم دکھائی دیتی ہے۔ یہ تضاد اس اداریے کا مرکزی نکتہ ہے۔ وسائل کی سرزمین پر محرومی کیوں؟
پاکستان کے بلوچستان میں معدنیات اور بندرگاہی امکانات امید جگاتے ہیں، مگر سیاسی عدم اعتماد، سلامتی کے مسائل اور گورننس کی کمزوریاں رفتار سست کرتی ہیں۔ ایران کے سیستان و بلوچستان میں سرحدی تجارت اور ساحلی معیشت کے امکانات ہیں، مگر مرکز و صوبہ کے بیچ فاصلے اور سکیورٹی خدشات ترقی کو محدود رکھتے ہیں۔ افغانستان کے نمروز میں تو ریاستی عدم استحکام اور کمزور انفراسٹرکچر نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ گویا تینوں اطراف میں مسئلہ ایک سا ہے مرکز اور سرحد کے درمیان اعتماد کی خلیج۔
ثقافتی سطح پر مگر کہانی مختلف ہے۔ بلوچی زبان، قبائلی ڈھانچہ، مہمان نوازی، روایتی موسیقی اور غیرت کے تصورات یہ سب سرحدوں سے ماورا رشتہ قائم رکھتے ہیں۔ خاندانی اور قبائلی روابط تینوں ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہی وہ سماجی سرمایہ ہے جو اگر ریاستی پالیسی میں مثبت طور پر شامل ہو تو استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔ بدقسمتی سے اکثر اوقات اسے سکیورٹی کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے، ترقی کے زاویے سے نہیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ سرحدی خطے ہمیشہ حساس ہوتے ہیں۔ اسمگلنگ، شورش، غیر قانونی نقل و حرکت—یہ چیلنجز حقیقت ہیں۔ مگر محض عسکری یا انتظامی حل پائیدار نہیں ہوتے۔ جب تک تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار اور مقامی سیاسی شرکت کو ترجیح نہیں دی جائے گی، مسائل کی جڑ باقی رہے گی۔ طاقت سے خاموشی تو ممکن ہے، اطمینان نہیں۔
اس پورے خطے کو مقابلہ نہیں، تعاون کی ضرورت ہے۔ سرحدی منڈیوں کی قانونی حیثیت، مشترکہ تجارتی راہداریوں کی سہولت، ماہی گیری اور معدنیات میں مقامی شراکت، اور تعلیمی و ثقافتی تبادلوں کا فروغ—یہ وہ اقدامات ہیں جو محرومی کو امکان میں بدل سکتے ہیں۔ تینوں ریاستوں کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ سرحد کو دیوار نہیں، پل سمجھیں۔
بلوچستان محض ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک احساس ہے—شناخت، خودداری اور بقا کا احساس۔ اگر ریاستیں اس احساس کو احترام اور شراکت میں بدل دیں تو بلوچستان (پاکستان)، سیستان و بلوچستان (ایران) اور نمروز (افغانستان) پسماندگی کی علامت نہیں بلکہ گل علاقائی تعاون کی مثال بن سکتے ہیں۔ تاریخ نے اس خطے کو تقسیم کیا، مگر مستقبل اسے جوڑ بھی سکتا ہے.

