اداریہ
بنگلہ دیش میں ہونے والے عام انتخابات ایک بار پھر نہ صرف اس ملک کی داخلی سیاست بلکہ جنوبی ایشیا کی مجموعی جمہوری فضا کے لیے اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے بنگلہ دیش کی سیاست شدید قطبیت، احتجاجی تحریکوں اور حکومتی و اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کا شکار رہی ہے۔ ایسے ماحول میں انتخابات کا انعقاد محض آئینی تقاضا نہیں بلکہ جمہوری ساکھ کا ایک بڑا امتحان بن جاتا ہے۔
بنگلہ دیش کی سیاست دو بڑی جماعتوں کے گرد گھومتی رہی ہے، جن کے درمیان کشیدگی کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ انتخابی عمل کی شفافیت، نگران حکومت کے قیام، سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں اور اظہارِ رائے کی آزادی جیسے مسائل نے حالیہ برسوں میں سیاسی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ انتخابات ایک غیرجانبدار نگران انتظامیہ کے تحت کرائے جائیں تاکہ نتائج پر کسی قسم کا سوال نہ اٹھ سکے، جبکہ حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ موجودہ آئینی ڈھانچے کے اندر ہی شفاف انتخابات ممکن ہیں۔ یہ اختلاف محض انتظامی نہیں بلکہ اعتماد کے بحران کی علامت ہے۔
کسی بھی جمہوری نظام میں انتخابات کی اصل روح عوام کی آزادانہ شرکت اور رائے دہی کے عمل پر اعتماد میں مضمر ہوتی ہے۔ اگر ایک بڑی سیاسی جماعت یا عوامی طبقہ انتخابی عمل سے خود کو الگ محسوس کرے تو اس سے نہ صرف نتائج کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ سیاسی استحکام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ بنگلہ دیش جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے، جس نے گزشتہ دہائیوں میں معاشی میدان میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے، سیاسی عدم استحکام معاشی کامیابیوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
میڈیا کی آزادی اور سول سوسائٹی کا کردار بھی اس تناظر میں نہایت اہم ہے۔ آزاد میڈیا انتخابی عمل کی نگرانی، بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور عوامی شعور بیدار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر صحافتی اداروں پر دباؤ یا قدغنیں عائد ہوں تو انتخابی شفافیت پر سوالات جنم لیتے ہیں۔ اسی طرح عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی خودمختاری بھی جمہوری عمل کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان اداروں پر عوام کا اعتماد ہی انتخابات کو متنازع ہونے سے بچا سکتا ہے۔
عالمی برادری کی نظریں بھی بنگلہ دیش کے انتخابات پر مرکوز رہتی ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین شفافیت، انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں کے حوالے سے اپنی رپورٹس مرتب کرتے ہیں، جو ملک کی عالمی ساکھ اور خارجہ تعلقات پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک کا جمہوری استحکام بیرونی دباؤ سے زیادہ داخلی اتفاقِ رائے اور آئینی بالادستی سے مشروط ہوتا ہے۔
اس موقع پر تمام سیاسی قوتوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قومی مفاد کو جماعتی مفاد پر ترجیح دیں۔ احتجاج اور اختلاف جمہوریت کا حصہ ہیں، مگر تشدد، بائیکاٹ یا انتہا پسندانہ طرزِ عمل سیاسی نظام کو کمزور کرتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی مخالفین کے لیے مساوی مواقع یقینی بنائے، جبکہ اپوزیشن کو بھی جمہوری عمل میں شرکت کے ذریعے اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
بنگلہ دیش کے عوام نے ماضی میں آمریت اور سیاسی بحرانوں کا سامنا کیا ہے اور ہر بار جمہوری نظام کی بحالی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ آج بھی اصل طاقت عوام کے ووٹ میں مضمر ہے۔ اگر انتخابی عمل شفاف، منصفانہ اور پُرامن انداز میں مکمل ہوتا ہے تو یہ نہ صرف داخلی استحکام کا باعث بنے گا بلکہ پورے خطے میں جمہوری اقدار کو تقویت دے گا۔
آخرکار، بنگلہ دیش کے انتخابات کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ آیا وہ عوام کے اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں یا مزید تقسیم کو جنم دیتے ہیں۔ ایک مضبوط، شفاف اور جامع انتخابی عمل ہی ملک کو سیاسی استحکام اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن رکھ سکتا ہے۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ اداروں کی مضبوطی، سیاسی رواداری اور قانون کی حکمرانی کا مجموعہ ہے—اور یہی بنگلہ دیش کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج اور سب سے بڑی ضرورت

