مہرنگ بلوچ کی جدوجہد اور مسنگ پرسنز کا المیہ

اداریہ

بلوچستان میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ کئی دہائیوں سے ایک سنگین انسانی اور آئینی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہزاروں خاندان آج بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں، اور اسی طویل انتظار، خاموش اذیت اور اجتماعی ناانصافی کے خلاف جو آواز ابھر کر سامنے آئی ہے، اس کی نمایاں علامت مہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھی ہیں۔
مہرنگ بلوچ ایک نوجوان سماجی کارکن کے طور پر مسنگ پرسنز کے لواحقین کی ترجمان بن کر سامنے آئیں۔ ان کی جدوجہد نہ صرف ذاتی دکھ سے جڑی ہے بلکہ اجتماعی شعور کی بیداری کی علامت بھی ہے۔ وہ اور ان کے ساتھی پُرامن احتجاج، لانگ مارچ، دھرنوں اور جلسوں کے ذریعے ریاست اور اداروں کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا بنیادی مطالبہ نہ بغاوت ہے، نہ تصادم—بلکہ آئینِ پاکستان کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق کا نفاذ ہے۔
ان کی تحریک کے مرکزی مطالبات میں لاپتہ افراد کی فوری بازیابی، جبری گمشدگیوں کا خاتمہ، ماورائے عدالت اقدامات کی شفاف تحقیقات، اور ذمہ داروں کا احتساب شامل ہیں۔ مہرنگ بلوچ بارہا اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی جرم میں ملوث ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے، تاکہ انصاف قانون کے مطابق ہو، نہ کہ خاموشی اور خوف کے سائے میں۔
بدقسمتی سے، اس پُرامن تحریک کو اکثر نظرانداز کیا گیا یا سکیورٹی کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی، جس سے مسئلے کی سنگینی مزید بڑھ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ مسنگ پرسنز کا معاملہ صرف بلوچستان کا نہیں بلکہ پورے ملک کے عدالتی اور اخلاقی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جب ریاست اپنے شہریوں کو جواب دہی نہ دے سکے تو عدم اعتماد کی خلیج گہری ہو جاتی ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مہرنگ بلوچ اور ان جیسے کارکنان کی آواز کو سنا جائے، نہ کہ دبایا جائے۔ مسائل طاقت سے نہیں، مکالمے، شفافیت اور انصاف سے حل ہوتے ہیں۔ مسنگ پرسنز کی بازیابی صرف متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ نہیں بلکہ ایک مہذب، جمہوری اور آئینی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اگر ہم واقعی ایک پُرامن اور متحد پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں ان سوالات کا سامنا کرنا ہوگا جنہیں مہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھی برسوں سے اٹھا رہے ہیں۔ انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہوتی ہے—اور یہ انکار کسی بھی ریاست کے حق میں نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں