جمہوری گھٹن کے ماحول میں پاپولر لیفٹ الائنس کی کانفرنس ایک بروقت اور ضروری قدم

اداریہ

ملک میں آئینی بالادستی کی کمزوری، جمہوری اداروں کی مسلسل پائمالی، اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغنیں اور عوام کے قومی و جمہوری حقوق کا سلب کیا جانا اس وقت پاکستان کے سب سے سنگین مسائل بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں پاپولر لیفٹ الائنس کی جانب سے 3 فروری کو کراچی میں جمہوری قوتوں کی کانفرنس بلانے کا فیصلہ ایک بروقت اور خوش آئند قدم ہے، جو اس گھٹن زدہ فضا میں جمہوری آوازوں کو یکجا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ملک ایک طرح کی آئینی آمریت کی گرفت میں ہے، جہاں پارلیمان، عدلیہ، میڈیا اور دیگر جمہوری ادارے اپنی اصل روح کے مطابق آزادانہ کردار ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں بائیں بازو اور جمہوریت پسند قوتوں، ٹریڈ یونینز، کسان تنظیموں، طلبہ اور پروفیشنل اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش نہ صرف سیاسی شعور کو جلا بخش سکتی ہے بلکہ ایک وسیع جمہوری اتحاد کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔
پی آئی اے ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہونے والی میٹنگ میں مختلف ترقی پسند اور قوم پرست جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل اس بات کی علامت ہے کہ یہ کانفرنس محض علامتی اجتماع نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی کاوش ہے۔ اگر یہ فورم محض تقاریر تک محدود رہنے کے بجائے عوامی مسائل، آئینی حقوق اور جمہوری جدوجہد کے لیے واضح اور مشترکہ لائحہ عمل پیش کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ملکی سیاست میں ایک مثبت موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوری قوتیں ذاتی و جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع تر قومی مفاد میں متحد ہوں۔ عوام آج مہنگائی، بے روزگاری، عدم تحفظ اور سیاسی بے یقینی کا شکار ہیں۔ ان کے لیے صرف بیانات نہیں بلکہ عملی جدوجہد، مضبوط اتحاد اور واضح موقف درکار ہے۔
پاپولر لیفٹ الائنس کی مجوزہ کانفرنس اس سمت میں ایک اہم قدم ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس کے نتائج محض کاغذی قراردادوں تک محدود نہ رہیں بلکہ جمہوریت، آئین اور عوامی حقوق کے حقیقی دفاع میں ڈھل سکیں۔ وقت کا تقاضا بھی یہی ہے اور عوام کی امیدیں بھی اسی سے وابستہ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں