بلوچستان کے اساسی مسائل مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی ناکامیاں

اداریہ

بلوچستان پاکستان کا وہ صوبہ ہے جو قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور اسٹریٹجک محلِ وقوع کے باوجود آج بھی شدید پسماندگی، بداعتمادی اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ یہ صورتحال کسی ایک حکومت یا ادارے کی پیدا کردہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط مرکزی اور صوبائی سطح کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے بلوچستان کو مسلسل نظرانداز کیے رکھا۔
مرکزی حکومت کا کردار بلوچستان کے مسائل میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ وفاق نے ہمیشہ صوبے کو سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھا، عوامی فلاح اور سیاسی اعتماد سازی کو ثانوی حیثیت دی۔ قدرتی وسائل کی تقسیم میں بلوچستان کے ساتھ ناانصافی ایک تلخ حقیقت ہے۔ گیس، معدنیات اور اب گوادر جیسے میگا منصوبوں سے حاصل ہونے والا فائدہ مقامی آبادی تک نہ پہنچ سکا۔ وفاقی حکومت نے ترقیاتی منصوبے تو شروع کیے، مگر ان کی منصوبہ بندی میں نہ مقامی عوام کی رائے شامل کی گئی اور نہ ہی شفافیت کو یقینی بنایا گیا، جس کے باعث یہ منصوبے امید کے بجائے شکوک کو جنم دیتے رہے۔
دوسری جانب بلوچستان کی صوبائی حکومتیں بھی اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں۔ بدعنوانی، نااہلی اور سیاسی مفادات نے صوبے کے مسائل کو مزید پیچیدہ کیا۔ تعلیم، صحت اور بلدیاتی نظام جیسے بنیادی شعبوں میں صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی کھل کر سامنے آتی ہے۔ اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز کے باوجود زمینی حقائق تبدیل نہ ہو سکے۔ اسکول موجود ہیں مگر اساتذہ غائب، اسپتال ہیں مگر ڈاکٹر دستیاب نہیں۔ یہ سب صوبائی سطح پر ناقص حکمرانی کی واضح مثالیں ہیں۔
امن و امان کی صورتحال پر بھی دونوں حکومتوں کی پالیسیوں پر سوالات اٹھتے ہیں۔ طاقت کے استعمال نے وقتی خاموشی تو پیدا کی، مگر عوامی مسائل کی جڑ پر توجہ نہ دی گئی۔ جبری اقدامات نے عوام اور ریاست کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کیا، جبکہ مفاہمت، مکالمے اور سیاسی حل کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔
بلوچستان کے عوام کا سب سے بڑا مطالبہ عزت، انصاف اور شمولیت ہے، مگر افسوس کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اس بنیادی حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہی ہیں۔ اگر وفاق نے صوبے کو اعتماد میں لینے کے بجائے کنٹرول کی پالیسی جاری رکھی اور صوبائی حکومت نے بدعنوانی اور نااہلی سے جان نہ چھڑائی تو حالات میں بہتری کا امکان معدوم ہوتا چلا جائے گا۔
آخر میں یہ کہنا ناگزیر ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل محض اعلانات، پیکجوں یا سیکیورٹی آپریشنز میں نہیں بلکہ نیک نیتی، شفاف حکمرانی اور حقیقی سیاسی شراکت میں ہے۔ جب تک مرکزی حکومت اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی نہیں بناتی اور صوبائی حکومت عوامی فلاح کو ذاتی و سیاسی مفادات پر ترجیح نہیں دیتی، بلوچستان کے زخم بھرنا ممکن نہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں