کوئٹہ (این این آئی) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے کہا ہے کہ مشرقی بائی پاس، افغانیہ اسٹاپ پر سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے قائم کیے گئے نئے ٹی بی ایس (ٹاؤن بارڈر اسٹیشن) منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں گیس کی طویل عرصے سے جاری قلت اور کم پریشر جیسے سنگین مسائل کے حل کی جانب ایک اہم اور مثبت پیش رفت ہے۔اس موقع پر پارٹی کے تختانی بائی پاس کے علاقائی سینئر معاون سیکریٹری نذیر خان اچکزئی، علاقائی معاون سیکریٹری محمد عثمان بڑیچ اور دیگر پارٹی کارکنان موجود تھے۔اس موقع پر صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے واضح کیا کہ اس ٹی بی ایس کی منظوری کے لیے انہوں نے کراچی میں سوئی سدرن گیس کمپنی کے سینئر جنرل منیجر مدنی صدیقی سے ملاقات کی تھی، جس میں منصوبے کی ضرورت، عوام کو درپیش مشکلات اور فوری اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اس ملاقات کے نتیجے میں ٹی بی ایس کی منظوری دی گئی، جس کا آج باقاعدہ افتتاح عمل میں آیا، جو پارٹی کی مسلسل جدوجہد کا عملی ثبوت ہے۔ نصراللہ خان زیرے نے کہا کہ اس ٹی بی ایس کے قیام سے مسلم اتحاد کالونی، محمود آباد، بڑیچ کالونی، حاجی باقی روڈ، محمود مینہ، مشرقی بائی پاس اور گردونواح کے دیگر علاقوں میں گیس کی فراہمی نمایاں طور پر بہتر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کے مکین طویل عرصے سے گیس کی شدید کمی، کم پریشر اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل کا سامنا کر رہے تھے، تاہم اس منصوبے کے بعد عوام کو خاطر خواہ ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ صوبائی صدر نے اس موقع پر کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہمیشہ عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور شہریوں کے جائز و آئینی حقوق کے لیے جدوجہد کرتی آئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گیس، بجلی اور پانی جیسے بنیادی مسائل پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور پارٹی ہر سطح پر عوام کے مفادات کا دفاع جاری رکھے گی۔ انہوں نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام پر زور دیا کہ اس ٹی بی ایس کو مکمل استعداد کے ساتھ فعال رکھا جائے، نئی گیس پائپ لائنوں کی تنصیب کے عمل کو تیز کیا جائے اور گیس کی منصفانہ اور بلا تعطل تقسیم کو یقینی بنایا جائے، تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف حاصل ہو سکے۔ آخر میں نصراللہ خان زیرے نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی عوامی مفاد سے وابستہ تمام منصوبوں کی نہ صرف حمایت کرے گی بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد کی نگرانی بھی مسلسل جاری رکھے گی، تاکہ عوام کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل کیے جا سکیں۔

