اداریہ
سابق نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک منفرد باب تھی، جہاں بلوچ، پشتون اور سندھی قوم پرست قیادت ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہو کر وفاقی جمہوریت، صوبائی خودمختاری، سماجی انصاف اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی تھی۔ یہ اتحاد محض سیاسی نہیں بلکہ فکری تھا، جس کی بنیاد اس یقین پر تھی کہ پاکستان کی بقا اور استحکام کثیر القومی حقیقت کو تسلیم کرنے میں ہے، نہ کہ اسے دبانے میں۔
بدقسمتی سے نیپ کو ریاستی جبر، پابندیوں، گرفتار یوں اور اندرونی تضادات کا سامنا کرنا پڑا، اور بالآخر یہ جماعت تاریخ کا حصہ بن گئی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ مسائل جن کے خلاف نیپ نے آواز اٹھائی تھی، آج ختم ہو چکے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، مرکزیت، لاپتہ افراد، شناخت کا بحران، اور سیاسی محرومیاں ویسی ہی موجود ہیں بلکہ بعض صورتوں میں مزید گہری ہو چکی ہیں۔
موجودہ حالات میں پاکستان کی سیاست شدید پولرائزیشن کا شکار ہے۔ قومی سیاست چند طاقتور جماعتوں کے گرد گھومتی ہے، جن کی ترجیحات اقتدار کا حصول ہیں، نہ کہ وفاق کی مضبوطی۔ قوم پرست جماعتیں یا تو کمزور ہو چکی ہیں یا علاقائی سیاست تک محدود ہو گئی ہیں۔ ایسے میں ایک ہمہ گیر، ترقی پسند اور جمہوری پلیٹ فارم کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے جو مختلف محکوم قومیتوں اور طبقات کو جوڑ سکے۔
سوال صرف امکان کا نہیں، ضرورت کا بھی ہے۔ ایک نئی نیشنل عوامی پارٹی جیسی جماعت آج اس لیے ضروری ہے کہ یہ سیاست کو نفرت، عسکریت اور مرکزیت کے دائرے سے نکال کر مکالمے، آئینی حقوق اور جمہوری جدوجہد کی طرف لے آئے۔ تاہم امکان کی بات کی جائے تو راستہ آسان نہیں۔ قوم پرست سیاست خود انتشار کا شکار ہے، نئی نسل تنظیمی سیاست سے دور ہے، اور ریاستی سطح پر اختلاف کو آج بھی شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
اس کے باوجود، اگر ماضی کی غلطیوں سے سیکھا جائے، قیادت کو شخصیت پرستی سے نکال کر ادارہ جاتی بنایا جائے، اور قوم پرستی کو جمہوریت، طبقاتی انصاف اور انسانی حقوق سے جوڑا جائے تو ایک نئے اتحاد کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ یہ اتحاد صرف بلوچ، پشتون اور سندھی سیاست تک محدود نہ ہو بلکہ سرائیکی، گلگتی، کشمیری اور دیگر محروم آوازوں کو بھی ساتھ لے کر چلے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ نیشنل عوامی پارٹی کی طرز کی جماعت آج ایک رومانوی خیال نہیں بلکہ ایک سیاسی ضرورت ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کیا تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم تاریخ سے سیکھ کر ایک بہتر، زیادہ منصفانہ اور جمہوری مستقبل کی سیاست تشکیل دے سکتے ہیں یا نہیں۔

