زخموں پر نمک چھڑکنے کی سیاست بند کی جائے

اداریہ

پنجاب کی وزیراعلیٰ کا حالیہ دورۂ بلوچستان افسوس کے ساتھ یہ تاثر دے گیا کہ وہ وہاں کے عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے نہیں بلکہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے گئی تھیں۔ ایک ایسے وقت میں جب بلوچستان کے لوگ محرومی، بے روزگاری، بدامنی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں، انہیں ہمدردی، سنجیدگی اور عملی اقدامات کی ضرورت تھی—نہ کہ نمائشی بیانات اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی۔
بلوچستان برسوں سے وفاقی اور صوبائی سطح پر عدم توجہی کا شکار رہا ہے۔ وہاں کے نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہیں، بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، اور ترقی کے نام پر کیے گئے وعدے اکثر کاغذوں تک محدود رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر کسی بڑے صوبے کی قیادت وہاں جا کر حقیقت پسندانہ لائحہ عمل پیش کرنے کے بجائے خودنمائی اور سیاسی برتری کا مظاہرہ کرے تو یہ رویہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ اشتعال انگیز بھی محسوس ہوتا ہے۔
عوام کو خالی نعروں اور وقتی اعلانات سے بہلایا نہیں جا سکتا۔ بلوچستان کے لوگوں کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ اس ملک کے برابر کے شہری ہیں، ان کے وسائل پر سب سے پہلا حق انہی کا ہے، اور ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے گا۔ لیکن اگر دوروں کا مقصد محض کیمرے کے سامنے چند جملے کہنا اور واپس آ جانا ہو تو یہ عمل اعتماد کی خلیج کو مزید گہرا کرتا ہے۔
پنجاب کی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بڑے صوبے کا منصب محض اختیار نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔ بلوچستان کے دکھ درد کو سیاسی بیانیے کا حصہ بنانے کے بجائے عملی یکجہتی، شفاف منصوبہ بندی اور باہمی احترام کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر ایسے دورے اتحاد کے بجائے احساسِ محرومی کو بڑھانے کا سبب بنتے رہیں گے۔
وقت آ گیا ہے کہ نمائشی سیاست کو ترک کر کے سنجیدہ اور دیرپا اقدامات کیے جائیں۔ بلوچستان کے عوام کو تقریروں نہیں، انصاف اور عملی تعاون کی ضرورت ہے۔ اگر واقعی قومی یکجہتی مقصود ہے تو زخموں پر نمک نہیں بلکہ مرہم رکھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں