کوئٹہ (این این آئی)ایران کے قونصل جنرل محمد کریمی تودشکی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں امن، استحکام اور خودمختاری کے اصولوں پر قائم ہے، دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کو مسترد کرتا ہے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو 10 ارب ڈالر سالانہ تجارت تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہے۔ ایران اپنی داخلی سلامتی پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور کسی بھی جارحیت کا“قاطع اور بھرپور جواب”دے گا۔یہ با ت انہوں نے بدھ کو کوئٹہ میں ایرانی انقلابِ اسلامی کی 47ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہی۔ قونصل جنرل نے کہا کہ 1979 کا انقلاب ایرانی قوم کے عزم، خودمختاری اور قومی وقار کی بحالی کی علامت تھا اور یہ محض اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ غیر ملکی بالادستی کے خاتمے اور جمہوری و قومی حاکمیت کے قیام کی تحریک تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دہائیوں میں ایران نے پابندیوں اور عالمی دباؤ کے باوجود سائنس و ٹیکنالوجی، صحت، صنعت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جب کہ نالج بیسڈ کمپنیوں اور غیر تیل برآمدات میں اضافہ اقتصادی خودانحصاری کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کو طویل عرصے سے امریکی“دشمنانہ اقدامات”اور پابندیوں کا سامنا ہے۔ دسمبر 2025 کے اواخر میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ معاشی مسائل سے جڑے پُرامن مظاہرے تھے، تاہم بیرونی عناصر نے سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال انگیزی کی اور مسلح گروہوں نے سرکاری و نجی املاک، سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے بعد صورتحال پر قابو پا لیا گیا اور لاکھوں افراد کی ریلیوں نے نظام کی حمایت کا اظہار کیا۔محمد کریمی تودشکی نے کہا کہ ایران ہمسایہ ممالک کے ساتھ متوازن اور فعال سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ قومی مفادات اور خودمختاری کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جوہری امور پر مذاکرات کے متعدد ادوار مکمل ہو چکے تھے تاہم علاقائی کشیدگی کے باعث عمل متاثر ہوا، جبکہ 6 فروری 2026 سے مذاکرات کا نیا دور شروع ہو چکا ہے۔انہوں بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں، خصوصاً کوئٹہ اور اسلام آباد میں مساجد و امام بارگاہوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت اور عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا اور کہا کہ دہشت گردی دونوں برادر ممالک کا مشترکہ چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت پہلی بار 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے اور دونوں ممالک نے اسے سالانہ 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے اس مقصد کے لیے بینکاری روابط، سرحدی تجارت، نجی شعبے کے تعاون اور مشترکہ تجارتی کمیٹیوں کو فعال بنانا ضروری ہے۔تقریب کے اختتام پر قونصل جنرل نے ایران اور پاکستان کی دوستی کو خطے کے امن اور خوشحالی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے عوام کے لیے استحکام اور

