کوئٹہ (این این آئی) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں سمنگلی روڈ، کلی سبیل سمنگلی، ایئربیس گارڈ روم گیٹ کے سامنے قائم بیریئرز، کھودے گئے گڑھوں اور غیر ضروری چیک پوسٹوں پر شدید تشویش اور احتجاج کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ سڑک پر جگہ جگہ قائم بیریئرز، رکاوٹوں اور کھودے گئے گڑھوں کے باعث علاقہ مکینوں اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ روزمرہ آمدورفت بری طرح متاثر ہو رہی ہے جبکہ ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونے سے حادثات کے امکانات میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ طلبہ، مریض، بزرگ شہری اور خواتین روزانہ اذیت ناک صورتحال سے گزرنے پر مجبور ہیں، جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، تاہم امن کے نام پر شہریوں کی بنیادی سہولیات اور آزادی آمدورفت کو محدود کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ عوام کو بلاجواز روک ٹوک، غیر ضروری پوچھ گچھ اور ذہنی اذیت میں مبتلا کرنا مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے عوام میں بے چینی اور اضطراب میں اضافہ ہوتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سمنگلی کے علاقے میں پی اے ایف کی جانب سے ہزاروں ایکڑ اراضی کاسی قبائل سے، جبکہ نوحصار اور دیگر علاقوں میں بازئی قبائل کی ہزاروں ایکڑ زمین پر زبردستی قبضہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ملی شہید عثمان خان کاکڑ نے بطور سینیٹر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ مذکورہ علاقوں کا دورہ کیا تھا اور ایک تفصیلی رپورٹ بھی سینیٹ میں جمع کرائی تھی، جس میں واضح کیا گیا تھا کہ یہ زمینیں مقامی قبائل کی پدری اور قانونی ملکیت ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ قبضہ شدہ اراضی کو واگزار کرنے کے بجائے مزید بیریئرز قائم کیے جا رہے ہیں اور سڑکوں پر گڑھے کھود کر عوام کو مشکلات میں ڈالا جا رہا ہے، جبکہ مزید زمینوں پر قبضے کی کوششیں بھی جاری ہیں، جو کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سمنگلی روڈ پر قائم غیر ضروری بیریئرز فوری طور پر ہٹائے جائیں۔ کھودے گئے گڑھوں کو پْر کر کے سڑک کو مکمل طور پر بحال کیا جائے۔ غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کر کے عوام کو آزادانہ اور باعزت آمدورفت کی سہولت فراہم کی جائے۔ مقامی قبائل کی زمینوں کے حوالے سے فوری اور منصفانہ کارروائی کر کے قبضہ شدہ اراضی واگزار کی جائے۔ بیان کے آخر میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر عوامی مشکلات کا فوری ازالہ نہ کیا گیا تو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی عوام کے ساتھ مل کر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے پر مجبور ہو گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں اور حکام پر عائد ہو گی۔

