ہیلتھ انشورنس پالیسی حکومت بلوچستان کی جانب سرکاری ملازمین کے لیے بڑا تحفہ ہے،سرفراز بگٹی

کوئٹہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سرکاری ملازمین کے لیے علاج و معالجہ کی مجوزہ انشورنس پالیسی پر پیشرفت،سول اور بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کوئٹہ کی از سر نو بحالی سے متعلق اقدامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ، چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان ایڈیشنل چیف سکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات زاہد سلیم، سیکریٹری خزانہ لعل جان جعفر،سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری عمران زوکون، اور سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی وزیر اعلیٰ کو سیکرٹری صحت کی جانب سے سرکاری ملازمین کے علاج کے لئے مجوزہ صحت انشورنس پالیسی پر عمل درآمد سے متعلق بریفنگ دی گئی وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہیلتھ انشورنس پالیسی حکومت بلوچستان کی جانب اپنے سرکاری ملازمین کے لیے ایک بہت بڑا تحفہ ہے جو سرکاری ملازمین سرکاری امور کی روانی میں مصروف عمل ہے یہ جو سڑکوں پہ ہیں ان سب کو بہترین ہیلتھ کیئر کی سہولیات فراہم کرینگے انہوں نے ہدایت کی کہ سات مارچ 2026 کو سرکاری ملازمین کے لئے ہیلتھ انشورنس پالیسی کے باقاعدہ آغاز کیلئے تمام ضروری اقدامات کو حتمی شکل دی جائے انہوں نے کہا کہ پالیسی کے تحت ہر سرکاری ملازم کو 10 لاکھ روپے تک ملک کے بہترین ہسپتالوں میں علاج کی سہولت میسر ہوگی وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ سول ہسپتال کوئٹہ اور بولان میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ کی از سر نو بحالی کے لئے تمام ضروری امور پر عمل درآمد تیز کیا جائے اور اس حوالے سے محکمہ صحت اپنا ایک میکنزم بنائے وزیر اعلیٰ نے مذکورہ پالیسی سے متعلق کہا کہ اس پالیسی سے سرکاری ملازمین کو بروقت علاج کی سہولت فراہم کی جاسکے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں