نظم: زخموں پر نمک

وہ آئی تھی کہ مرہم رکھے گی
سوکھے ہونٹوں پر حرفِ تسلی رکھے گی،
مگر اس کے لفظ
نمک تھے—
اور ہمارے زخم
ابھی تازہ تھے۔
یہاں کی مٹی اب بھی
لاپتہ خوابوں کی گرد سے اَٹی ہے،
یہاں کے پہاڑ
چیخوں کو اپنے سینے میں چھپائے بیٹھے ہیں،
یہاں کے ساحل
روزگار کی کشتیوں کے منتظر ہیں۔
ہم نے سمجھا تھا
کوئی ہاتھ ہمارے شانے پر رکھا جائے گا،
کوئی آنکھ
ہماری آنکھ میں جھانک کر کہے گی:
“تم اکیلے نہیں ہو۔”
مگر کیمروں کی چمک میں
ہمارے اندھیرے اور گہرے ہو گئے،
تقریروں کے شور میں
ہماری سسکیاں دب گئیں،
اور وعدوں کی روشنی
صرف اسٹیج تک محدود رہی۔
ہمیں لفظ نہیں چاہیے تھے،
ہمیں راستے چاہیے تھے۔
ہمیں نعرے نہیں چاہیے تھے،
ہمیں حق چاہیے تھا۔
اے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والو!
ہماری مٹی کو ترس کی نہیں،
انصاف کی ضرورت ہے۔
ہمارے زخموں پر نمک نہ چھڑکو،
اگر مرہم نہیں لا سکتے
تو کم از کم
ہمارا درد تماشا نہ بناؤ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں