قادربخش بلوچ
دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا منشر ہوچکی تھی۔جاپان پر ایٹم بم گرے۔۔لیکن جسطرح دنیا نے خود کو سنبھالا۔بلکل اسی طرح جاپان نے بھی خود کو سنبھالا۔دنیا میں جو ممالک جنگ عظیم میں جس بری طرح متاثر ہو گئے تھے۔اج اکاش کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔۔لیکن ان کا سہرا ان ممالک کے رہنماؤں کے سر ھے۔۔ایران۔عراق۔لیبیا افغانستان ڈگر سے ہٹ گئے۔اس وقت ملک کا صوبہ بلوچستان بد امنی کا شکار ھے۔سوال یہ ہے کہ بد امنی ھے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا۔۔دنیا کی تاریخ سے معلوم ہوتا ھے کہ جہاں جہاں حالات خراب ہوے۔وہاں رہنماؤں نے حالات پر قابو پانے کی کوشش کی اور کامیاب ہوے۔سوال یہ ہے کہ بلوچستان میں ڈاکٹر مالک جیسے مدبر سیاستدان اور عوام دوست رہنما کے ہوتے ہوئے۔مرکزی حکومت ڈاکٹر مالک بلوچ کو ذمہ دار ی کیوں نہیں دیتی کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروے کار لا کر بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانے میں کردار ادا کرے۔ڈاکٹر مالک بلوچ کا سیاسی ماضی بڑی شاندار ھے۔یہ مالک بلوچ تھے جنہوں نے بلوچستان میں تعلیم کو عام کرکے صوبے کے ہر فرد کو ان کی دہلیز پر تعلیم کی رسائی دی۔ڈاکٹر مالک نے جتنا کام تعلیم اور صحت پر کیا اس پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ڈاکٹر مالک نہ صرف ایک سیاستدان ہیں بلکہ ایک مانے ہوے ادیب اور دانشور ہیں۔۔مرکزی حکومت سے گزارش ھے کہ بلوچستان کے جملہ مسائل کے حل کیلئے ڈاکٹر مالک کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے اور ڈاکٹر مالک کو مکمل اختیار دے اور ان کے طریقہ کار میں مداخلت نہ کرے۔ڈاکٹر صاحب کے تجاویز مرکزی سرکار من عن عمل کرے۔بھلے وہ تجاویز جو بھی ہوں نئے الیکشن کی صورت میں ہوں یا کچھ اور ہوں۔۔
اگر حکومت بلوچستان میں واقعی امن چاہتی ھے تو اس کا واحد حل ڈاکٹر مالک کی سربراہی میں کمیٹی ہوگا۔مالک بلوچ صوبے کی نفسیات سے اچھی طرح واقف ہیں۔لیکن شرط یہ ہو گا کہ سرکار کو مالکی شرائط ماننے ہوں گے۔

