کوئٹہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر جنگلات سردار مسعود لونی کی ہدایات کی روشنی میں سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان عمران گچکی نے محکمہ کے افسران اور عملے کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال صوبہ بھر میں شجرکاری مہم کے ساتھ ساتھ درختوں کی مؤثر نگہداشت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری پر خطیر وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں، تاہم اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب لگائے گئے پودوں کی بقا اور افزائش پر بھرپور توجہ دی جائے۔انہوں نے کہا کہ درخت لگانا جتنا ضروری ہے، اس کی نگہداشت اس سے کئی گنا زیادہ اہم ہے۔ اگر بعد از شجرکاری اقدامات مؤثر نہ ہوں تو قیمتی وسائل ضائع ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ اس لیے تمام اضلاع میں جہاں جہاں شجرکاری کی گئی ہے وہاں فوری طور پر پانی کی فراہمی کے لیے واٹر ٹینکرز کو متحرک کیا جائے اور باقاعدہ عملہ تعینات کیا جائے جو پودوں کی دیکھ بھال، حفاظت اور افزائش کی نگرانی کرے۔سیکرٹری جنگلات نے ہدایت کی کہ ہر ضلع میں بعد از شجرکاری نگہداشت کا واضح اور قابلِ عمل منصوبہ مرتب کیا جائے، جس میں آبپاشی کا شیڈول، ذمہ دار اہلکاروں کی تعیناتی اور مانیٹرنگ کا نظام شامل ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام اقدامات کی باقاعدہ تحریری ہدایات جاری کی جائیں تاکہ عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ شجرکاری اور بعد از شجرکاری سرگرمیوں کی مناسب دستاویز بندی کی جائے۔ متعلقہ اضلاع سے اہم سرگرمیوں کی تصاویر اور ویڈیوز باقاعدگی سے شیئر کی جائیں تاکہ شفافیت برقرار رہے اور کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔سیکرٹری جنگلات عمران گچکی نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ درختوں کو اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ان کی حفاظت اور نگہداشت میں بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ محلوں، دیہات اور شہروں میں لگائے گئے پودوں کو پانی دینا، انہیں نقصان سے بچانا اور ان کی نشوونما پر توجہ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، کیونکہ سرسبز اور محفوظ ماحول ہی ہمارے آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیر جنگلات کے وژن کے مطابق شجرکاری اور درختوں کی نگہداشت کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا تاکہ صوبے میں ایک پائیدار اور سرسبز ماحول کو فروغ دیا جا سکے۔

