شہید حمید بلوچ اور مزاحمت کی تاریخ

اداریہ

بلوچستان کی سیاسی تاریخ قربانیوں، جدوجہد اور نظریاتی استقامت سے عبارت ہے۔ انہی روشن ابواب میں ایک نمایاں نام حمید بلوچ کا ہے، جو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (BSO) کے متحرک رہنما تھے۔ انہیں محمد ضیاء الحق کے مارشل لا کے دور میں 1981ء میں مچھ جیل، بلوچستان میں پھانسی دی گئی۔ ان کے ساتھ ساتھ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سینکڑوں کارکنوں کو کوڑے لگائے گئے اور کئی ساتھی برسوں تک جیلوں میں قید رہے۔
حمید بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی جدوجہد کا بنیادی نکتہ ایک اصولی مؤقف تھا۔ انہوں نے کراچی اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں اس پالیسی کی مخالفت کی جس کے تحت بلوچستان سے نوجوانوں کو مسقط کے حکمرانوں کی جانب سے ظفار تحریک کے خلاف فوجی بھرتیوں کے لیے آمادہ کیا جا رہا تھا۔ ان کا استدلال تھا کہ بلوچ نوجوانوں کو اپنے ہی خطے کے عوامی مسائل، تعلیم، ترقی اور سیاسی حقوق کے لیے کھڑا ہونا چاہیے، نہ کہ کسی اور ملک کے داخلی تنازع میں استعمال ہونا چاہیے۔
یہ پس منظر دراصل Dhofar Rebellion سے جڑا تھا، جو عمان کے صوبہ ظفار میں جاری ایک مسلح تحریک تھی۔ اس تحریک کے خلاف مسقط حکومت کی حمایت میں مختلف حکومتی سطحوں پر تعاون کیا گیا۔ بلوچ اور کئی طلبہ تنظیموں نے اسے اصولی طور پر نادرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوانوں کے مستقبل کو غیر ملکی مفادات کی نذر کرنے کے مترادف ہے۔
حمید بلوچ کی پھانسی نے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں سیاسی کارکنوں کے دلوں میں اضطراب پیدا کیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی علامت بن گیا کہ ریاستی طاقت کے سامنے نظریاتی وابستگی رکھنے والے افراد کس قدر بھاری قیمت ادا کرتے ہیں۔ ان کی جدوجہد کا مقصد تشدد نہیں بلکہ سیاسی شعور اور مزاحمت کی روایت کو زندہ رکھنا تھا۔
آج جب ہم ماضی کے ان اوراق کو پلٹتے ہیں تو سوال یہی ابھرتا ہے کہ کیا ہم نے نوجوانوں کی سیاسی آواز کو سننے، انہیں بااختیار بنانے اور ان کے خدشات کو سنجیدگی سے لینے کا ہنر سیکھا ہے؟ حمید بلوچ کی یاد ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کرنا ہی ایک جمہوری معاشرے کی اصل پہچان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں