اداریہ
قوموں کی تاریخ صرف واقعات سے نہیں بنتی، بلکہ اُن کرداروں سے تشکیل پاتی ہے جو اپنے عہد کے سامنے سوال بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ سوال جو ضمیر کو جھنجھوڑ دے، جو خاموشی کو توڑ دے، اور جو ظلم کے ایوانوں میں دراڑ ڈال دے۔ آج جب ہم جدوجہد کے تین نشان — رازق بگٹی، حبیب جالب اور ڈاکٹر کہور خان — کو یاد کرتے ہیں تو دراصل ہم مزاحمت کی اُس روایت کو سلام پیش کرتے ہیں جو نظریے، قلم اور عمل کے امتزاج سے جنم لیتی ہے۔
رازق بگٹی کا نام مزاحمت کی اُس علامت کے طور پر ابھرتا ہے جس نے طاقت کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا۔ ان کی جدوجہد صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک اجتماعی احساس کی ترجمانی تھی۔ وہ اس سوال کی آواز تھے جو محرومیوں کی دھرتی سے اٹھتا ہے: انصاف کب ملے گا؟ ان کی قربانی نے یہ پیغام دیا کہ جدوجہد وقتی نہیں ہوتی، یہ نسلوں کی امانت بن جاتی ہے۔
حبیب جالب نے جد وجہد کو ہتھیار بنایا۔ انہوں نے عوام کو سچ کہنے کا حوصلہ دیا، آمریت کے خلاف آواز بلند کی اور عوام کے دکھ کو زبان دی۔ ان کا نام آج بھی سیاسی و سماجی شعور کی بیداری کا استعارہ ہے۔ جالب کی یاد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ لفظ اگر سچ کے ساتھ کھڑے ہوں تو وہ بندوق سے زیادہ طاقتور ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر کہور خان علم اور مزاحمت کا سنگم تھے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ جدوجہد صرف میدان میں نہیں، فکر اور شعور کی سطح پر بھی لڑی جاتی ہے۔ تعلیم، تنظیم اور نظریے کے ذریعے معاشرے کو بیدار کرنا بھی ایک انقلابی عمل ہے۔ ان کا کردار ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ روشنی بانٹنا بھی مزاحمت کی ایک صورت ہے۔
یہ تینوں شخصیات ہمیں ایک بنیادی سبق دیتی ہیں: خاموشی غیر جانبداری نہیں، بلکہ اکثر اوقات ناانصافی کی تقویت بن جاتی ہے۔ جب معاشرہ سوال کرنا چھوڑ دے تو جمود اس کی تقدیر بن جاتا ہے۔ لیکن جب چند لوگ کھڑے ہو جائیں، تو وہی لوگ تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان ناموں کو محض جذباتی نعروں تک محدود نہ کریں، بلکہ ان کے نظریات اور اصولوں کو عملی زندگی میں جگہ دیں۔ اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے سننے کا حوصلہ پیدا کریں، اور سماجی انصاف کو محض نعرہ نہیں بلکہ پالیسی کا حصہ بنائیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ نظریات کو گولیوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ وہ زندہ رہتے ہیں، نئی صورتوں میں، نئے ناموں کے ساتھ۔ جدوجہد کے یہ تین نشان ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انقلاب شخصیات سے آگے ایک فکر کا نام ہے — اور فکر کو دبایا نہیں جا سکتا۔
اگر ہم واقعی ان کی یاد کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم خاموش تماشائی بن کر نہیں، بلکہ باشعور شہری بن کر تاریخ کا حصہ بنیں گے۔ کیونکہ انقلاب ناموں سے نہیں، اصولوں سے زندہ رہتا ہے۔

