اڈیالہ جیل میں عمران خان کی آنکھوں کے علاج میں غفلت کا الزام، سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع

اسلام آباد(رپورٹر) میں 2 گھنٹے اور 45 منٹ تک اڈیالہ کے اندر رہا جس میں 2 گھنٹے عمران خان صاحب سے ملاقات کی اور 45 منٹ کا انکے سیل اور دیگر معاملات کا جائزہ لیکر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی، عمران خان صاحب سے پچھلے 3 سال میں جب بھی کبھی ملاقات میں انکی سہولیات کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ہمیشہ یہی کہا کہ یہ سب چھوڑو مجھے فرق نہیں پڑتا جیسے رکھتے ہیں رکھنے دو، لیکن کل جب عمران خان سے ملاقات میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ باقی چیزوں کا مجھے فرق نہیں پڑتا لیکن مجھے یہ کتابیں نہیں دے رہے اور میری آنکھ کی بینائی انکی وجہ سے زائل ہوئی ہے میں نے 3 ماہ پہلے سے کہنا شروع کیا مگر انہوں نے علاج نہیں کروایا، عمران خان صاحب ملاقات میں مسلسل اپنی آنکھ کو ٹشو پیپر سے صاف کرتے رہے، انہوں نے کہا کہ جیل سپرٹنڈنٹ عبدالغفور انجم اس کا ذمہ دار ہے اور سلمان اکرم راجہ سے جا کر کہو کہ اس پر کیس کرے، پھر انہوں نے بتایا کیسے 3 ماہ کی غفلت کے بعد انہیں اچانک پمز لیکر گئے وہاں کے ڈاکٹروں نے انجیکشن لگایا جس سے صرف 15 فیصد بینائی ٹھیک ہوئی اسکے بعد علاج روک دیا گیا، خان نے کہا بچوں سے بات نہیں کروا رہے بہنوں سے بات نہیں کروا رہے، انکا سیل دیکھا وہاں کچھ کتابیں 2 سیب پڑے تھے قریب 10 کمیرے لگائے ہوۓ ہیں، کچن اور واشروم کی حالت خراب ہے، 16 گھنٹے لگاتار انہیں بند رکھا جاتا ہے، میرے بار بار اسرار پر بھی انہوں نے کوئی اور سہولت نہیں مانگی بس یہی کہا کہ میں کیسے رہ رہا ہوں اسکو چھوڑ دو صرف میری آنکھ کا کچھ کرو اور میری کتابوں کا کچھ کرو. خان صاحب کی رپورٹ کے مطابق کوئی بھی جج انکو رہا کر دے 73 سال کی عمر میں پچھلے 3 سال میں آج تک خان صاحب نے بیماری کا کوئی بہانہ نہیں کیا لیکن جب انکی آنکھ کا مسلہ ہوا تو ان کی کسی نے نہیں سنی لہٰذا جیل سپرٹنڈنٹ سب سے پہلا قصور وار ہے اسکے بعد ریاست پاکستان ذمہ دار ہے. سلمان صفدر ایڈووکیٹ
جہانزیب پاکستانی

اپنا تبصرہ بھیجیں