رازق
جدوجہد کے تین نشان
رازق، جالب، کہور خان
یہ مٹی گواہ ہے لہو کی خوشبو کی
یہ دھرتی سنبھالے ہوئے ہے صدا کی آگ
جہاں اٹھے تھے تین چراغ
جو بجھ کر بھی روشن ہیں آج
رازق بگٹی —
وہ جس نے پہاڑوں سے پوچھا تھا
ظلم کب تک سانس لے گا؟
جس کی آواز گونجی تھی
ریت کے ذروں سے افلاک تک
حبیب جالب —
وہ جس نے درباروں میں سچ کہا
اور زنجیروں کو لفظ بنا ڈالا
اس کی نظم ابھی تک
ہر قیدی کے ہونٹوں پر لرزتی ہے
اور ڈاکٹر کہور خان —
علم کی روشنی لیے
اندھیروں سے ٹکرانے والا
جس نے خوابوں کو
مزاحمت کا نام دیا
یہ تین نشان ہیں جدوجہد کے
تین ستارے ہیں رات کے سینے پر
تین صدائیں ہیں
جو کہتی ہیں —
خاموشی جرم ہے
اے وقت!
لکھ لے اپنے ماتھے پر
رازق، جالب، کہور خان
یہ نام نہیں
یہ عہد ہیں
جب تک سانس ہے
جب تک مٹی میں آنچ ہے
یہ جدوجہد زندہ رہے گی
یہ پرچم سر بلند رہے گا
ان کے لہو سے لکھی گئی تاریخ
مٹ نہیں سکتی
کیونکہ انقلاب
ناموں سے نہیں
نشانوں سے پہچانا جاتا ہے۔

