بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت ہونے کے باوجود جیالے مایوسی کا شکار ہیں،لالہ یوسف خلجی

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت ہونے کے باوجود جیالے مایوسی کا شکار ہیں سرکاری نوکریاں سرعام فروخت ہورہی ہیں اگریہی سلسلہ برقرار رہا تو آئندہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کا صوبے میں نام لینے ولا کوئی نہیں ہوگا، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، صدر مملکت آصف علی زرداری صوبے میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں لالہ یوسف خلجی نے کہا کہ 2024ء کے عام انتخابات میں بلوچستان میں پیپلز پارٹی کے جیالوں کی جدوجہد اور قربانیوں کی بدولت پیپلز پارٹی ایک بڑی پارلیمانی جماعت بن کرسامنے آئی اور صوبے میں پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت قائم ہوئی دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود پیپلزپارٹی کے جیالے اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں پیپلز پارٹی کے صوبائی وزراء،ارکان قومی و صوبائی اسمبلی جیالوں کواہمیت نہیں دیتے ہیں جس سے ان میں مایوسی پھیل رہی ہے جو کسی بھی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے مفاد میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت میں شامل وزراء کرپشن اور نوکریاں فروخت کرنے میں ملوث ہیں جبکہ پڑھے لکھے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اکثر لوگوں کا ذریعہ معاش بارڈ سے وابستہ تھا بارڈز بند ہونے سے لاکھوں کی تعداد میں نوجوان اور لوگ بے روزگارہوچکے ہیں اورانکے گھروں میں نوبت فاقوں تک آپہنچی ہے لیکن حکومت کی جانب سے بے روزگار ہونے والے افراد کیلئے روزگار کاکوئی بندوبست نہیں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے یہ نوجوان غلط راستوں کا نتخاب کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران صوبے کی ترقی کیلئے اربوں روپے کے فنڈز آئے جو خوردبرد اور کرپشن کی نظر ہوگئے صوبے میں ترقی زمین کی بجائے صرف کاغذوں میں نظر آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان امن جرگے کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کا مسئلہ دہشت گردی نہیں معاشی ہے اگر نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے تو دہشت گردی خودبرد ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری،صدر مملکت آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا کہ وہ صوبے میں پیپلز پارٹی کے جیالوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں،کرپشن، نوکریوں کی فروخت کا نوٹس لیں بصورت دیگر آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کا صوبے میں نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں