خواتین کی حفظان صحت یقینی بنانے کیلئے ہر سطح پر اقدامات ضروری ہیں،عظمیٰ کاردار

کوئٹہ+اسلام آباد(این این آئی)رکن پنجاب اسمبلی اور وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی عظمیٰ کاردار نے کہا ہے کہ خواتین کی صحت اور حفظان صحت (MHH) صرف بنیادی صحت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ خواتین کے وقار اور معاشی خود مختاری کا ایک بنیادی ستون ہے۔یہ بات انہوں نے اتوار کو مینسٹروئل ہیلتھ اینڈ ہائیجین ورکنگ گروپ سیکرٹریٹ میں بلوچستان کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔وفد نے قبل ازیں ہنگامی حالات میں صنفی منصوبہ بندی اور ایم ایچ ایچ ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے بین الصوبائی حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔عظمی کاردار نے زور دیا کہ صحت عامہ کی پالیسیوں میں موجود روایتی رکاوٹوں اور الگ تھلگ رہ کر کام کرنے پر مبنی رویوں کو ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں صوبوں کے درمیان مزید باہمی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہم صرف بحرانوں کا وقتی انتظام نہیں کر رہے، بلکہ آبادی کے کمزور طبقات کے لیے ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ حکومت پنجاب کے فعال کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف خواتین کو بااختیار بنانے کی پر زور حامی ہیں اور “خواتین اور لڑکیوں کی صحت اور صفائی کے حوالے سے بہت گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے صوبے بھر میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی امداد کے ایک اہم جزو کے طور پر مفت ایم ایچ ایچ (MHH) کٹس وسیع پیمانے پر تقسیم کی گئیں۔ملاقات میں ایم ایچ ایچ اور لڑکیوں کی تعلیم کے باہمی تعلق پر بھی بھرپور توجہ مرکوز کی گئی۔ عظمی کاردار نے زور دیا کہ طالبات کی حاضری کو بہتر بنانا اور سکولوں سے باہر رہنے والی لڑکیوں کو واپس کلاس رومز میں لانا انتہائی ضروری ہے، اور اس کے لیے سکولوں میں ایم ایچ ایچ کی مناسب سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔انہوں نے بلوچستان میں ایم ایچ ایچ کو فروغ دینے پر ایم ایچ ایم ڈبلیو جی (MHMWG) سیکرٹریٹ کے غیر معمولی کام کو سراہا اور تمام سماجی و معاشی طبقات کی خواتین کے لیے رسائی کو بہتر بنانے کے لیے ایم ایچ ایچ ٹیکس اصلاحات کوناگزیر قرار دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں