اسلام آباد (اے ایس این) پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے مرکزی رہنما میجر ریٹائرڈ گل زمان خان عوان نے کہا ہے کہ مائنس پلس کی سیاست پاکستان کو کبھی بھی راس نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسروں پر الزامات عائد کر کے پسِ پردہ چھپنے سے کوئی معصوم ثابت نہیں ہوتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کے حوالے سے جو خبریں آرہی ہیں،وہ قومی زندگی اورجمہوریت کیلئے تشویشناک ہیں،بانی پی ٹی آئی نے ملک میں رائج فرسودہ سیاسی نظام کو حقیقی معنوں میں جمہوری بنانے کی کوشش کی، مگر بظاہر کچھ اور اندر سے کچھ ہونے کی روش سیاست میں اخلاقی بحران کو جنم دیتی ہے۔انہوں نے قراردیا کہ منتخب عوامی نمائندوں کااخلاقی قدکاٹھ بلند ہونا چاہیے،جبکہ یہاں حالت یہ ہے ایک شخص بلوچوں کی بات کرتا ہے،استعفیٰ بھی دیتا ہے۔اور پھر 17 ماہ تک ہ پارلیمنٹ لاجز کے فلیٹ میں بھی مقیم رہتاہے اور ماہانہ پانچ لاکھ روپے سے زائد تنخواہ کے ساتھ ٹی اے/ڈی اے، اسٹاف الاؤنس، سفری سہولیات اور دیگر مراعات سے مستفید ہوکربھی نادم نہیں ہوتا۔ میجر (ر) گل زمان خان ا عوان تجویز دی ہے کہ آئندہ کیلئے طے کرلیا جانا چاہئیے کہ کوئی بھی استعفیٰ پیش ہوتے ہی تنخواہ و مراعات کی خودکار معطلی ہوجائے اور پارلیمانی مراعات کا سہ ماہی آڈٹ، نتائج کی عوامی اشاعت، اور خلاف ورزی پر واضح سزائیں مقررہونی چاۂئں۔ پارلیمانی ضابطہ اخلاق میں اخلاقی شقوں کا نفاذبہرصورت یقینی بنانے کیلئے آزاد نگران کمیٹی کی تشکیل کی جائے۔میجر(ر)گلزمان خان اعوان نے قراردیا ہے کہ یہ اصلاحات نہ صرف عوامی اعتماد بحال کریں گی بلکہ قومی خزانے کے تحفظ اور پارلیمانی وقار کو بھی مضبوط بنائیں گی کے مطابق یہ معاملہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح بعض رہنما قانونی سقم سے فائدہ اٹھا کر عوامی وسائل پر بوجھ بن سکتے ہیں، جس کے سدِباب کے لیے فوری اور مؤثر اصلاحات ناگزیر ہیں۔

