اوتھل میں رمضان کے دوران سستے آٹے کی عدم فراہمی پر تشویش

لسبیلہ(بیوروچیف حفیظ دانش)اوتھل میں شہریوں نے ماہِ رمضان المبارک کے دوران سستے آٹے کی عدم فراہمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دو سال قبل رمضان المبارک میں محکمہ فوڈ کی جانب سے سستا آٹا فراہم کیا گیا تھا، جس سے مہنگائی کے اس دور میں غریب اور متوسط طبقے کو نمایاں ریلیف ملا تھا، تاہم رواں سال تاحال ایسی کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔شہریوں کے مطابق اس وقت مارکیٹ میں 35 کلو آٹے کا تھیلا پانچ ہزار روپے سے زائد میں فروخت ہو رہا ہے، جو یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور کم آمدنی والے افراد کے لیے خریدنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ پہلے ہی اشیائے خوردونوش، سبزیوں، دالوں اور دیگر ضروری سامان کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث گھریلو بجٹ شدید متاثر ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں سستے آٹے کی عدم دستیابی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں خصوصی ریلیف پیکجز کا اعلان کیا جانا چاہیے تاکہ مستحق خاندانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اوتھل میں فوری طور پر سستا آٹا اسکیم بحال کی جائے اور منافع خوروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔اوتھل کے عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، محکمہ فوڈ کے اعلیٰ افسران اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ عوامی مشکلات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے رمضان المبارک کے دوران سستا آٹا فراہم کرنے کے احکامات جاری کریں تاکہ مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے گی اور رمضان کے بابرکت مہینے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں