چوکوں چھکوں کا طوفان احمد آباد کی جانب بڑھنے لگا، ٹی 20 ورلڈ کپ کا فائنل آج بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا جائے گا، ایک ٹرافی کیلیے 2 بڑی ٹیموں میں گھمسان کا رن پڑے گا۔
ٹاس جیتنے والی ٹیم ہدف کے تعاقب کو ترجیح دے سکتی ہے جبکہ اسپنرز کا کردار اہم رہے گا، میزبان کی نگاہیں ٹائٹل کا دفاع کرنے والی پہلی ٹیم بننے پر مرکوز ہیں۔
سنجو سیمسن ایک بار پھر امیدوں کا محور ہوں گے، بولنگ میں جسپریت بمرا کے تجربہ کار کندھوں پر توقعات کا بوجھ ہوگا۔
دوسری جانب کیوی ٹیم پہلے ٹی 20 ٹائٹل کو شوکیس کی زینت بنانے کی پوری کوشش کرے گی۔، بیٹنگ میں فن ایلن، ٹم سائفرٹ راچن رویندرا سے بڑے اسکور کی امیدیں وابستہ ہیں، مضبوط بھارتی بیٹنگ لائن کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری لوکی فرگوسن اور میٹ ہینری پر ہوگی۔
کیوی کپتان مچل سینٹنر نے کہا کہ اگر ٹرافی کیلیے چند دل توڑنے بھی پڑے تو کوئی پروا نہیں ہوگی، دوسری جانب بھارتی قائد سوریا کمار یادو نے اس کا جواب دیا کہ سب ایک جیسی باتیں کرتے ہیں، کوئی نئی لائن بولو۔
تفصیلات کے مطابق ٹی 20 ورلڈکپ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا، فائنل میں اتوار کو احمد آباد میں بھارت اور نیوزی لینڈ کا ٹکراؤ ہوگا، اس میچ کے نتیجے میں یا تو بھارت تاریخ رقم کرتے ہوئے ٹائٹل برقرار رکھنے والی پہلی ٹیم بنے گی یا نیوزی لینڈ پہلی مرتبہ محدود اوورز کے ورلڈ کپ کا تاج اپنے سر پر رکھے گا۔
بھارتی ٹیم گزشتہ چند برسوں سے ٹی20 کرکٹ میں انتہائی عمدہ کارکردگی دکھا رہی ہے، اگست 2023 کے بعد سے اسے کسی سیریز یا بڑے ٹورنامنٹ میں شکست نہیں ہوئی، 2024 میں ٹائٹل جیتنے والی ٹیم کو نئے باصلاحیت کھلاڑیوں کی شمولیت نے مزید طاقتور بنا دیا ہے۔
ایونٹ میں بھارت نے بیشتر میچز جیتے، البتہ اسے احمد آباد میں ہی جنوبی افریقا کے ہاتھوں سپر 8 راؤنڈ کے پہلے مقابلے میں مات ہوئی تھی۔ سیمی فائنل میں انگلینڈ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دے کر ٹیم نے فائنل تک رسائی حاصل کی۔

