آبدار غنی
ایران کی حیرت انگیز جنگی صلاحیت اور حکمت عملی
ہم ایک نئی تاریخ بنتے دیکھ رہے ہیں۔
دنیا حیران ہے کہ ایران کس طرح ایسی استعداد، ایسی شدت اور ایسی فیصلہ کن طاقت کے ساتھ امریکی فوجی اڈوں کو مٹا رہا ہے جس کے لیے کسی نے خود کو تیار نہیں کیا تھا۔ ایرانی میزائلوں کے تابڑ توڑ حملوں کی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ کے دفاعی نظام ناکام ہو چکے ہیں۔ مہنگے ترین انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے قریب ہے۔ امریکہ کے کئی جنگی طیارے ناکارہ یا تباہ ہو چکے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کا اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے ۔
صرف دس دنوں کے اندر ایران نے اس پورے خطے میں اپنی عسکری قوت کی نئی سرحدیں قائم کر دی ہیں۔ دنیا کے سب سے مہنگے اور قیمتی فوجی اڈے، اربوں ڈالر کی مشینری اور دفاعی نظام۔۔۔۔۔۔۔۔سب کچھ لمحوں میں خاکستر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
بحرین، کویت، قطر اور سعودی عرب میں قائم امریکی فوجی اڈے دنیا کے عظیم ترین عسکری مراکز سمجھے جاتے تھے۔ ان کو تعمیر کرنے میں کئی دہائیاں لگیں اور کھربوں ڈالر خرچ ہوئے۔ مگر آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تیس برس کی فوجی سرمایہ کاری دھوئیں کے بادلوں میں تحلیل ہو رہی ہے۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ کروڑوں ڈالر کے ریڈار ایک لمحے میں مٹی کا ڈھیر بن رہے ہیں۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکی فوجیوں نے پورے کے پورے فوجی اڈے خالی چھوڑ دیے ہیں—وہ جل رہے ہیں، تباہ ہو رہے ہیں اور بکھر رہے ہیں۔
میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اپنی پوری تاریخ میں امریکہ نے ایسی تباہی شاذ و نادر ہی دیکھی ہوگی۔ شاید صرف پرل ہاربر کا حملہ اس کی مثال ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر وہ بھی صرف ایک ہی حملہ تھا۔
روایتی جنگ میں کسی دشمن نے کبھی امریکی فوجی طاقت کے ساتھ وہ نہیں کیا جو آج ایران کر رہا ہے۔ اس پر یقین کرنا مشکل ہے۔
صورتحال اتنی سنگین ہے کہ اس جنگ سے متعلق تقریباً تمام معلومات سنسرشپ کی دیوار کے پیچھے چھپا دی گئی ہیں۔ اگر آپ غور کریں تو ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمیں کم سے کم خبریں مل رہی ہیں۔
پینتیس سال پہلے جب پہلی خلیجی جنگ لڑی جا رہی تھی تو دنیا کو عراق سے مسلسل ویڈیوز دکھائی جاتی تھیں۔ “سمارٹ بم” اُس وقت نئی ٹیکنالوجی تھے، مگر ہر رات ہمیں حملوں کی تصویریں دکھائی دیتی تھیں۔
اور آج؟
آج تو بمشکل کوئی ویڈیو سامنے آتی ہے۔
سوچیئے!
دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت۔۔۔۔۔۔جس کی فضائی قوت کو سب سے برتر کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔اور جنگ کے دسویں دن بھی ایران کے آسمان پر امریکی فضائیہ کی برتری کا کوئی واضح نشان نظر نہیں آ رہا۔
کہاں ہیں وہ ویڈیوز جن میں امریکی طیارے تہران کے اوپر پرواز کر رہے ہوں؟
حقیقت یہ ہے کہ امریکی فوجی ایران کی سرزمین پر قدم رکھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
اور اس جنگ کی مایوسی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ چوتھے ہی دن ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عجیب و غریب اور دیوانہ وار تجاویز آنے لگی ثھیں۔
ٹرمپ خلیج فارس میں سے گزرنے والے تیل کے جہازوں کو فوجی تحفظ دینے کے لیے دیگر ممالک کی منتیں کر رہا ہے۔
فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والا اور بربریت کے نئے ریکارڈ قائم کرنے والا نیتن یاہو ایک ہفتے سے کہیں چھپا بیٹھا ہے ۔ ایران نے اسرائیل میں غزہ جیسی تباہی اور بربادی کرکے دکھا دی ہے ۔ نیتن یاہو کے مرنے اور زخمی ہونے کی خبریں گردش کرتی رہیں لیکن اس کو سامنے آ کر تردید کرنے کی بھی جرآت نہیں ہوئی۔ امریکا بہادر اپنے طیارہ بردار جہاز ایران کے میزائلوں کی رینج سے باہر لے گیا ہے ۔
آخر اس کا مطلب کیا ہے؟
کیا وہ امریکی بحری جہازوں کو ہزاروں ایرانی میزائلوں کی زد میں بھیج کر تباہ ہوتے دیکھ سکتا ہے؟
اب تو آبنائے ہرمز سے گزرنا بھی خطرے سے خالی نہیں رہا۔
ایران اس لمحے کی تیاری کئی دہائیوں سے کر رہا تھا۔
اب کچھ لوگ کرد ملیشیاؤں کو ہتھیار دے کر ایران پر حملہ کروانے کی بات کر رہے ہیں۔
مگر کیا انھوں نے کبھی ایران کا نقشہ دیکھا ہے؟
کیا انھیں معلوم ہے کہ ایران کتنا وسیع ملک ہے؟
کیا دس ہزار افراد کی کوئی ملیشیا ایران کو شکست دے سکتی ہے؟
یا پچاس ہزار؟
یا ایک لاکھ؟
ایران انھیں نگل جائے گا۔
امریکہ اور اسرائیل دراصل یہ جنگ بری طرح سے ہار چکے ہیں۔
وہ اپنے بموں سے شہروں کو تباہ کر سکتے ہیں، لاکھوں بے گناہ شہریوں کو مار سکتے ہیں۔۔۔۔۔مگر وہ اس جنگ کو جیت نہیں سکتے۔
ایران کا فوجی نظام اور اس کے ہتھیار پورے ملک میں بہت گہرائی تک زیرِ زمین پھیلے ہوئے ہیں۔
انہیں نشانہ بنانا نہ امریکہ کے لیے آسان ہے اور نہ اسرائیل کے لیے۔
وہ ایک ایسی دلدل میں قدم رکھ چکے ہیں جہاں سے نکلنا آسان نہیں۔
انھوں نے طاقت کے زعم میں ایک ایسی آگ بھڑکا دی ہے جسے بجھانے کی صلاحیت اب ان کے پاس نہیں۔
اور جب یہ طوفان تھمے گا،
تو ممکن ہے امریکہ ہمیشہ کے لیے مغربی ایشیا سے رخصت ہو جائے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی موجودگی کا باب بند ہو جائے گا۔
موجودہ صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے میں یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں۔

