کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر نو گو ایریا نہیں، قومی شاہراؤں پر دہشت گردوں کی موجودگی چیلنج،نمٹنے کیلئے سیکیورٹی ادارے کارروائیاں کر رہے ہیں،میر ضیاء اللہ لانگو

کوئٹہ(این این آئی) وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر کوئی نو گو ایریا نہیں، تاہم قومی شاہراہوں پر دہشت گردوں کی موجودگی ایک چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی ادارے کارروائیاں کر رہے ہیں مستونگ میں میرے قافلے پر مسلح افراد کی فائرنگ کے دوران 5 اہلکار زخمی ہوئے، تاہم ایف سی، اے ٹی ایف اور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پسپا کردیا۔ دہشت گردی کسی حقوق یا آزادی کی جنگ نہیں بلکہ بلوچستان کے امن، عوام اور نوجوانوں کے مستقبل کے خلاف جنگ ہے۔یہ بات انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ میں میڈیا معاون برائے وزیر داخلہ بابر یوسفزئی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ وہ قلات سے بغیر اسکواڈ کے کوئٹہ آرہے تھے کہ مستونگ کے علاقے میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی، جبکہ پولیس کی ایک گاڑی بھی مسلح افراد کے گھیرے میں تھی۔انہوں نے کہا کہ مستونگ میں ایف سی، اے ٹی ایف اور پولیس نے فوری ردعمل دیا اور موقع پر پہنچ کر مسلح افراد کا مقابلہ کیا۔ حملے میں زخمی اہلکاروں کو 15 منٹ کے اندر اسپتال منتقل کیا گیا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردوں کی قیادت آزاد نہیں بلکہ ان کے بقول بیرون ملک موجود عناصر کے زیر اثر ہے، جبکہ دہشت گردی کی پشت پناہی بھارت اور افغانستان سے کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیڈر افغانستان میں مقیم ہیں۔میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ بلوچ گھروں میں خواتین اور بچوں پر تشدد کرنے والے عناصر کو بلوچ قوم کا نمائندہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے بقول دہشت گرد عوام کو درپیش سہولیات بھی چھین رہے ہیں اور خالق آباد و قلات میں فراہم کی گئی 30 سے 35 ایمبولینسز کو بھی مبینہ طور پر ہسپتالوں سے لے جایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں خالق آباد اور قلات میں ایمبولینس کی سہولت دستیاب نہیں تھی، تاہم حکومت نے عوام کی سہولت کے لیے ایمبولینسز فراہم کیں تاکہ خواتین اور دیگر مریضوں کو اسپتال پہنچایا جا سکے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گرد زمینداروں سے بھتہ وصول کر رہے ہیں اور نوجوانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بلوچ عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر کوئی نو گو ایریا نہیں، تاہم قومی شاہراہوں پر دہشت گردوں کی موجودگی ایک چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی ادارے کارروائیاں کر رہے ہیں۔انہوں نے بلوچستان میں جشن آزادی کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات پر فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام نے بھرپور انداز میں یوم آزادی منایا اور معمولات زندگی میں حصہ لیا۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ قبائلی تنازعے میں 6 خواتین کے قتل کے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قانون کے مطابق جواب دینا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں