بلوچستان کی بیٹیاں، عدالتوں میں قانون کی آواز عزم، جدوجہداور انصاف کے سفرمیں ایک روشن مثال

تحریر: قدیر احمد نصاری

بلوچستان کو عموماً قبائلی روایات، وسیع جغرافیہ، مشکل معاشی حالات اور محدود مواقع کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے، لیکن اس سرزمین کی ایک دوسری تصویر بھی تیزی سے سامنے آ رہی ہے۔ یہ تصویر تعلیم یافتہ، بااعتماد اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے والی بلوچ، پشتون، ہزارہ اور دیگر برادریوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کی ہے۔ اسی بدلتی ہوئی تصویر کا ایک خوبصورت باب بلوچستان کے قانونی شعبے میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک بلوچستان کی عدالتوں میں کسی خاتون وکیل کا سیاہ کوٹ پہن کر پیش ہونا ایک غیر معمولی منظر سمجھا جاتا تھا۔ آج صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق کوئٹہ کی عدالتوں میں تقریباً 150 خواتین وکالت کر رہی ہیں اور ہر سال 20 سے 25 نئی خواتین بطور وکیل اس پیشے کا حصہ بن رہی ہیں۔ یہ اعداد صرف تعداد میں اضافے کی خبر نہیں بلکہ بلوچستان کے معاشرتی سفر میں ایک اہم تبدیلی کی علامت بھی ہیں۔ یہ تبدیلی اس لیے بھی اہم ہے کہ قانون کا شعبہ محض روزگار کا ذریعہ نہیں۔ وکیل عدالت میں کسی شہری کے بنیادی حقوق، عزت، ملکیت، خاندان، آزادی اور انصاف کے لیے آواز اٹھاتا ہے۔ جب اس شعبے میں خواتین کی تعداد بڑھتی ہے تو معاشرے کے ایک بڑے حصے کو اپنی بات ایسے شخص کے سامنے رکھنے کا موقع ملتا ہے جو ان کے مسائل کو زیادہ قریب سے سمجھ سکتا ہے۔

ایک طویل سفر کی کہانی:
پاکستان میں خواتین کا قانون کے شعبے میں سفر نیا نہیں۔ ملک کی پہلی خاتون وکیلوں میں سلمیٰ صبوحان کا نام نمایاں ہے، جبکہ بعد کے برسوں میں جسٹس مجیدہ رضوی، جسٹس فخرالنسا کھوکھر، جسٹس ناصرہ اقبال اور دیگر خواتین نے عدلیہ اور قانونی میدان میں اپنی شناخت قائم کی۔ 1994 میں خواتین کی پہلی کھیپ میں ہائی کورٹس میں جج بننے والی شخصیات نے یہ ثابت کیا کہ قانون اور عدلیہ صرف مردوں کا میدان نہیں۔
پاکستان کی قانونی تاریخ میں عاصمہ جہانگیر کا کردار بھی نمایاں رہا۔ وہ نہ صرف انسانی حقوق کے مقدمات کے حوالے سے جانی گئیں بلکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان کی صدر بننے والی پہلی خاتون بھی رہیں۔ اسی طرح جسٹس عائشہ ملک نے 2022 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی پہلی خاتون جج بن کر ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا لیکن بلوچستان کی خواتین کے لیے سب سے روشن مثال شاید جسٹس سیدہ طاہرہ صفدر ہیں۔


طاہرہ صفدر، جنہوں نے تاریخ بدل دی:
جسٹس سیدہ طاہرہ صفدر نے بلوچستان میں خواتین کے لیے قانون اور عدلیہ کے دروازے اس وقت کھولے جب یہ شعبہ تقریباً مکمل طور پر مردوں کے زیر اثر تھا۔ وہ 1982 میں بلوچستان میں سول جج مقرر ہونے والی پہلی خاتون بنیں۔ بعد ازاں مختلف عدالتی مناصب سے گزرتے ہوئے یکم ستمبر 2018 کو چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کے منصب پر فائز ہوئیں۔ یوں وہ پاکستان کی کسی ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس بن گئیں۔ ان کا سفر دراصل آج بلوچستان کی عدالتوں میں نظر آنے والی ان سینکڑوں خواتین کے لیے ایک تاریخی پس منظر فراہم کرتا ہے جو قانون کو اپنا پیشہ بنا رہی ہیں۔ ایک خاتون کا جج بننا ایک کامیابی تھی، لیکن آج تقریباً ڈیڑھ سو خواتین کا عدالتوں میں بطور وکیل موجود ہونا ایک مختلف نوعیت کی سماجی تبدیلی ہے۔

بلوچستان سے خواتین وکلاء میں ایک نمایاں نام ایڈووکیٹ صابرہ اسلام کا ہے جو بلوچستان کی ایک ممتاز قانونی شخصیت ہیں جنہوں نے رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے بلوچستان کی پہلی خاتون ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے خطے میں خواتین کی مؤثر نمائندگی اور قانونی حقوق کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔


آج کی خواتین وکلاء:
بلوچستان میں خواتین وکلاء کی نئی نسل مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہے۔ کوئی فوجداری مقدمات لڑ رہی ہے، کوئی خاندانی تنازعات میں خواتین کی نمائندگی کر رہی ہے، کوئی انسانی حقوق کے مقدمات اٹھا رہی ہے اور کوئی قانونی اصلاحات کے لیے آواز بلند کر رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں ایڈووکیٹ فاطمہ نذر کا نام بھی نمایاں ہوا ہے۔ وہ Young Lawyers Forum for Judicial Reforms کے بلوچستان چیپٹر کی صدر کی حیثیت سے عدالتی اصلاحات، بروقت انصاف اور ادارہ جاتی احتساب کے موضوعات پر بات کرتی رہی ہیں۔ اسی طرح ایڈووکیٹ فرزانہ خلجی بلوچستان میں خواتین کے لیے قانونی معاونت اور انصاف تک رسائی کے حوالے سے کام کرنے والی نمایاں شخصیات میں شامل ہیں۔ 2025 کی خواتین وکلاء کانفرنس میں بھی ان کی بطور پینلسٹ شرکت ہوئی، جہاں خواتین کو درپیش آن لائن تشدد اور قانونی مسائل پر گفتگو کی گئی۔ ایڈووکیٹ غزالہ کی کہانی بھی اس تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ UNDP کے مطابق انہوں نے بلوچستان کے سماجی ماحول میں ایک دہائی کی مشکلات کے باوجود وکالت کا سفر جاری رکھا اور بعد میں خواتین و دیگر کمزور طبقات کو قانونی معاونت فراہم کرنے کے کام میں حصہ لیا۔ UNDP اور اس کے شراکت داروں نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی خواتین وکلاء کو کمزور طبقات کی نمائندگی کے حوالے سے تربیت بھی فراہم کی۔ کوئٹہ کی وکیل عفیفہ تحریم کا نام بھی پاکستان ویمن لائرز کونسل کی فہرست میں بلوچستان سے وابستہ قانونی ماہر کے طور پر موجود ہے۔ گوادر کی شازیہ محراب نے بھی تاریخ رقم کی۔ انہیں گوادر کی پہلی خاتون وکیل کے طور پر رپورٹ کیا گیا اور ان کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ بلوچستان کے نسبتاً دور دراز علاقوں سے بھی خواتین اب قانون کے پیشے میں داخل ہو رہی ہیں۔ اسی طرح جلیلہ حیدر کا نام بھی بلوچستان کی خواتین وکلاء کی جدوجہد کے حوالے سے نمایاں ہے۔ وہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی وکیل ہیں اور خواتین و کمزور طبقات کے قانونی مسائل کے لیے کام کرتی رہی ہیں۔ ایڈووکیٹ طلعت رحمان بھی ایک نوجوان خاتون وکیل کی حیثیت سے انصاف کے پیشہ میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایڈووکیٹ طلعت رحمان وکالت کے ساتھ ساتھ سوشل ورک اور فنون لطیفہ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر رہی ہیں اور ایک مستند اور تجربہ کار ٹی وی کمپیئر کی حیثیت سے بھی جانی پہچانی جاتی ہیں۔ ایڈووکیٹ انعم خیر، ایڈووکیٹ ثناء جلبانی، ایڈووکیٹ لبنیٰ کاکڑ، ایڈووکیٹ طیبہ کاکڑ، حمیرا منیر، ایڈووکیٹ شازیہ قریشی، ایسٹر مہک سمیت بہت سی سینئر اور نوجوان خواتین وکلاء کی طویل فہرست ہے جو انصاف کے شعبے کے لئے فخر کا باعث ہیں۔
یقینایہ چند نام کسی مکمل فہرست کے طور پر نہیں بلکہ بلوچستان میں اس مشکل اور اہم شعبے میں اپنی صلاحیتوں، عزم اور پیشہ ورانہ کردار کے ذریعے نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین وکلا کی چند نمائندہ مثالیں ہیں۔ یقیناً اس مختصر تحریر میں بہت سی ایسی باصلاحیت اور قابلِ احترام خواتین وکلا کے نام شامل نہیں ہو سکے جو خاموشی اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے اپنے شعبوں میں قانون اور انصاف کی خدمت کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے جن معزز خواتین وکلا کا ذکر رہ گیا، ان سے راقم کی یہ غیر ارادی کوتاہی پیشگی معذرت کی مستحق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کی ہر خاتون وکیل اپنے اپنے دائرہ کار میں قانون کی سربلندی اور معاشرے میں انصاف کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ ان خواتین کی جدوجہد نہ صرف موجودہ نسل کے لیے حوصلے اور عزم کی مثال ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی خواتین وکلا کے لیے بھی مشعلِ راہ بن رہی ہے۔ یقیناً آج کی یہ جدوجہد مستقبل میں بلوچستان کے ایک روشن، مثبت اور باصلاحیت چہرے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

150 کا عدد صرف ایک عدد نہیں:
تقریباً 150 خواتین کا بلوچستان میں وکالت کرنا بظاہر ایک سادہ سا عدد ہے، مگر اس کے پیچھے کئی خاندانوں، کئی ماؤں، کئی بیٹیوں اور کئی طالبات کی کہانیاں چھپی ہوئی ہیں۔ یہ وہ خواتین ہیں جنہوں نے قانون پڑھا، بار میں رجسٹریشن کرائی، عدالتوں کے چکر لگائے، سینئر وکلاء سے سیکھا، مقدمات کی تیاری کی اور ایک ایسے ماحول میں اپنی جگہ بنائی جہاں کئی دہائیوں تک اس شعبے میں مردوں کی اکثریت رہی۔ 2024 میں بلوچستان کی پہلی Women Lawyers Conference کا انعقاد بھی اسی تبدیلی کی علامت تھا۔ UNDP اور بلوچستان بار کونسل کے اشتراک سے ہونے والی اس کانفرنس میں بلوچستان بھر سے 100 سے زائد خواتین وکلاء شریک ہوئیں۔ کانفرنس کا مقصد خواتین وکلاء کے تجربات، مشکلات اور انصاف کے نظام کو خواتین کے لیے زیادہ محفوظ اور قابل رسائی بنانے کے امکانات پر گفتگو کرنا تھا۔ دسمبر 2025 میں دوسری Women Lawyers Conference میں بھی 85 سے زائد خواتین وکلاء نے شرکت کی۔ اس بار موضوع ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور آن لائن تشدد جیسے نئے قانونی چیلنجز تھے۔ یہ سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلوچستان کی خواتین اب صرف عدالتوں میں مقدمات نہیں لڑ رہیں بلکہ قانونی نظام کی سمت، اصلاحات اور مستقبل کے بارے میں ہونے والی گفتگو کا بھی حصہ بن رہی ہیں۔

مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئیں:
اس مثبت پیش رفت کے باوجود یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ خواتین وکلاء کے لیے تمام مشکلات ختم ہو چکی ہیں۔ خاندانی پابندیاں، دور دراز علاقوں میں سفر، عدالتوں اور چیمبرز میں سہولیات کی کمی، بچوں اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں توازن، محفوظ کام کا ماحول اور معاشی مسائل آج بھی کئی خواتین کے لیے چیلنج ہیں۔ برٹش کونسل کی ایک کیس اسٹڈی میں کوئٹہ کی وکیل ارم محمود کے تجربات بیان کیے گئے ہیں، جنہوں نے 2000 میں بلوچستان میں اپنی آزاد چیمبر قائم کرنے والی پہلی خاتون وکیل ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کے تجربے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آج جو راستہ کچھ آسان دکھائی دیتا ہے، اس کے پیچھے پچھلی نسل کی خواتین کی طویل جدوجہد شامل ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ادارہ جاتی سطح پر بھی کچھ اقدامات سامنے آئے ہیں۔ 2025 میں ایک سرکاری اجلاس میں بلوچستان کے قانونی اداروں کی جانب سے خواتین وکلاء کے لیے 100 اسکوٹیز، ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے درمیان شٹل سروس اور دیگر سہولیات کا ذکر کیا گیا تھا۔

بیٹی عدالت میں کھڑی ہو تو معاشرہ بدلتا ہے:
بلوچستان میں خواتین کی وکالت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی تعداد کو صرف خواتین کی کامیابی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثبت تبدیلی ہے۔ جب ایک بیٹی قانون پڑھتی ہے تو وہ صرف اپنی زندگی کا راستہ نہیں بناتی۔ وہ اپنے گھر، خاندان اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک نیا تصور بھی پیدا کرتی ہے۔ جب وہ عدالت میں کھڑی ہو کر کسی مظلوم عورت، بچے، مزدور، غریب یا کمزور شہری کا مقدمہ لڑتی ہے تو قانون کی کتاب محض کتاب نہیں رہتی، بلکہ عملی انصاف کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ بلوچستان کو ایسے ہی کرداروں کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، استاد، صحافی، پولیس افسر، جج اور وکیل بننے والی بیٹیاں دراصل معاشرے کے مختلف ستون مضبوط کرتی ہیں اور شاید سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ آج بلوچستان کی ایک طالبہ جب سیاہ کوٹ میں کسی خاتون وکیل کو عدالت میں دیکھتی ہے تو اسے یہ سوچنے کی ضرورت نہیں رہتی کہ ”کیا میں بھی وکیل بن سکتی ہوں؟“ اس کے سامنے جواب موجود ہوتا ہے۔ ”ہاں، تم بھی بن سکتی ہو“۔ بلوچستان کی عدالتوں میں بڑھتی ہوئی خواتین وکلاء کی تعداد اسی جواب کی عملی تصویر ہے۔ تقریباً 150 خواتین کا یہ سفر ابھی اختتام نہیں، بلکہ ایک نئے اور روشن دور کی ابتدا ہے۔!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں