تحریر:رشیداحمدنعیم
ادب کے آسمان پر جب کوئی نیا ستارہ طلوع ہوتا ہے تو وہ محض روشنی نہیں بکھیرتا بلکہ اپنے گرد ایک نئی فضا، ایک نیا احساس اور ایک نئی فکر بھی تخلیق کرتا ہے۔ ایسے ہی روشن ستاروں میں ایک نام سدرہ شیخ کا بھی ہے جو کم عمری میں اپنی فکری بالیدگی، تخلیقی گہرائی اور قلم کی لطافت کے باعث علم و ادب کے حلقوں میں ایک معتبر شناخت قائم کر چکی ہیں۔سدرہ شیخ کا قلم محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات کی ایک زندہ تصویر ہے جو قاری کے دل پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ وہ ایک افسانہ نگار ہی نہیں بلکہ ایک کہانی نویس، کالم نویس اور صحافی کی حیثیت سے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں۔ ان کی تحریروں میں زندگی کی حقیقت، معاشرتی مسائل کی عکاسی اور انسانی جذبات کی گہرائی اس خوبصورتی سے سمٹ آتی ہے کہ قاری خود کو ان کہانیوں کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔
یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ سدرہ شیخ کی تحریریں محض کہانیاں نہیں ہوتیں بلکہ وہ آئینہ ہوتی ہیں جس میں معاشرہ اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے۔ ان کے افسانوں میں کردار محض خیالی نہیں ہوتے بلکہ جیتے جاگتے انسان محسوس ہوتے ہیں جن کے دکھ، خوشیاں، امیدیں اور محرومیاں قاری کے دل میں ایک ہلچل پیدا کرتی ہیں۔ یہی وہ وصف ہے جو ایک عام لکھنے والے کو ایک منجھے ہوئے ادیب میں تبدیل کرتا ہے۔
کم عمری میں اس قدر پختگی کا مظاہرہ کرنا کسی غیر معمولی صلاحیت کا مظہر ہے۔ سدرہ شیخ نے اپنی محنت، لگن اور ادب سے وابستگی کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ عمر کی قید تخلیقی صلاحیتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔انہوں نے نہ صرف اپنے لیے ایک مقام بنایا بلکہ نوجوان نسل کے لیے بھی ایک روشن مثال قائم کی ہے کہ اگر جذبہ سچا ہو تو منزل خود راستہ دکھا دیتی ہے۔ان کے کالموں میں جہاں حالاتِ حاضرہ کی عکاسی ملتی ہے وہیں ایک باشعور ذہن کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ وہ اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی ناانصافیوں، انسانی رویوں اور بدلتے ہوئے حالات پر نہایت سنجیدگی اور فہم کے ساتھ روشنی ڈالتی ہیں۔ ان کا انداز نہ تو محض تنقیدی ہے اور نہ ہی محض جذباتی بلکہ ایک متوازن اور مدلل طرزِ بیان ان کی تحریروں کو وقار عطا کرتا ہے۔
ادب میں اصل کمال یہ ہے کہ لکھنے والا اپنے قاری کو سوچنے پر مجبور کرے اور سدرہ شیخ اس معیار پر پوری اترتی ہیں۔ ان کی تحریریں سوالات بھی اٹھاتی ہیں اور کہیں نہ کہیں ان سوالات کے جواب بھی تلاش کرنے کی تحریک دیتی ہیں۔ یہی وہ خوبی ہے جو کسی بھی ادیب کو زندہ اور مؤثر بناتی ہے۔سدرہ شیخ کی ادبی خدمات محض ان کی ذات تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک پورے فکری سفر کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کا قلم نوجوانوں کے خوابوں کی ترجمانی بھی کرتا ہے اور معاشرے کی تلخ حقیقتوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ ان کے اندر موجود حساس دل اور بیدار ذہن نے انہیں اس مقام تک پہنچایا ہے جہاں وہ نہ صرف خود کو بلکہ اپنے قاری کو بھی ایک بہتر سوچ کی طرف لے جاتی ہیں۔
آج جب ادب کے میدان میں سطحیت کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے ایسے میں سدرہ شیخ جیسی سنجیدہ اور باوقارآواز کا ابھرنا ایک خوش آئند امر ہے۔ وہ ادب کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بناتیں بلکہ اسے شعور بیدار کرنے کا ایک مؤثر ہتھیار سمجھتی ہیں۔ یہی سوچ انہیں دیگر ہم عصر لکھنے والوں سے ممتاز کرتی ہے۔یہ کہنا بجا ہوگا کہ سدرہ شیخ کا ادبی سفر ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے مگر ان کی موجودہ کامیابیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ آنے والا وقت ان کے نام سے منسوب ہوگا۔ ان کی تحریریں مزید نکھریں گی۔ ان کا انداز مزید پختہ ہوگا۔ وہ ادب کے افق پر مزید بلند مقام حاصل کریں گی۔
سدرہ شیخ کو یہ خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دل دعاگو ہے کہ ان کا قلم ہمیشہ اسی طرح رواں دواں رہے۔ ان کے الفاظ میں ہمیشہ تاثیر قائم رہے۔ وہ علم و ادب کی دنیا میں مزید کامیابیاں سمیٹتی رہیں۔ ان کی محنت، لگن اور خلوص یقیناً انہیں ایک دن ادب کے اعلیٰ ترین مقام تک پہنچائے گا۔یہ ہدیہ تبرک ان کی ادبی عظمت کے اعتراف کا ایک ادنیٰ سا اظہار ہے۔اصل مقام تو وہ ہے جو ان کا قلم خود تخلیق کر رہا ہے اور جو آنے والے وقت میں ایک روشن تاریخ کا حصہ بنے گا


