خدمت،اخلاص اور محبت کا پیکر۔۔۔ چوہدری مسعود احمد ظفر ایڈووکیٹ

اے آر طارق
زندگی میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض ایک فرد نہیں رہتیں بلکہ ایک عہد، ایک کردار اور ایک روشن مثال بن جاتی ہیں۔ ان کی موجودگی دلوں کو اطمینان اور زندگیوں کو سمت عطا کرتی ہے اور جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو صرف ایک گھرانہ نہیں بلکہ پورا معاشرہ سوگوار ہو جاتا ہے۔چوہدری مسعود احمد ظفر صاحب بھی انہی نادر انسانوں میں شمار ہوتے تھے جن کی جدائی ایک ایسا خلا چھوڑ گئی ہے جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے مگر پُر کرنا ممکن نہیں۔ان کی وفات نہ صرف اہل خانہ اور قریبی احباب کے لیے بلکہ کوٹ رادھا کشن اور گردو نواح کے پورے علاقے کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے۔وہ باوقار، باکردار اور باعمل شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے اپنی زندگی خدمت خلق، دیانت داری، اخلاص اور انسان دوستی کے اصولوں کے مطابق گزاری۔ان کی زندگی کا ہر پہلو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے جینے والے ایک سچے اور مخلص انسان تھے۔
مسعود احمد ظفر جماعت اسلامی کوٹ رادھا کشن ضلع قصور کے ایک فعال اور نظریاتی کارکن تھے۔ ان کی وابستگی محض سیاسی نہ تھی بلکہ ایک مشن کی حیثیت رکھتی تھی۔وہ معاشرتی صلاح، فلاحی سرگرمیوں اور عوامی رہنمائی میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ ان کے کردار میں استقامت، گفتگو میں سنجیدگی اور انداز میں شائستگی نمایاں تھی جو ہر ملنے والے کو متاثر کرتی تھی۔ان کی سب سے نمایاں خوبی انسان دوستی تھی۔وہ ہر طبقے کے لوگوں کے ساتھ یکساں خلوص اور احترام سے پیش آتے۔ ضرورت مندوں کی مدد ان کی فطرت کا حصہ تھی بغیر کسی صلے یا نمود کے۔ان کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے اور وہ خاموشی سے بے شمار لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی جدائی کا دکھ ہر دل میں یکساں شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ان کے تعلقات محبت، خلوص اور ذمہ داری کا حسین امتزاج تھے۔ وہ خوشی اور غم دونوں میں شریک رہتے اور دوسروں کے مسائل کو اپنا سمجھ کر حل کرنے کی کوشش کرتے۔ان کی مجلس میں اپنائیت،ان کے لہجے میں مٹھاس اور ان کے روئیے میں وقار جھلکتا تھا، جس سے ہر شخص خود کو اہم محسوس کرتا۔علاقے میں انہیں ایک بااثر اور معتبر شخصیت کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔ان کا اثر و رسوخ ہمیشہ بھلائی، انصاف اور لوگوں کی فلاح کے لیے استعمال ہوا۔وہ حق گو اور انصاف پسند انسان تھے جو مشکل حالات میں بھی اصولوں پر قائم رہے۔ یہی اوصاف انہیں ایک مثالی شخصیت بناتے ہیں۔
ان کی پوری زندگی خدمت خلق سے عبارت تھی۔انہوں نے معاشرے میں بہتری،لوگوں کے مسائل کے حل اور ایک باوقار اجتماعی ماحول کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ان کی خدمات نہ صرف یاد رکھی جائیں گی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بھی بنیں گی۔آج ان کی جدائی کا دکھ دلوں پر گراں ہے۔ ان کی مسکراہٹ،ان کا خلوص اور ان کی محبت بھری باتیں ہمیشہ یاد آئیں گی۔وہ ایک سایہ دار درخت کی مانند تھے جس کی چھاؤں میں ہر کوئی سکون محسوس کرتا تھا اور آج اس سایہ کے اٹھ جانے کا احساس شدت سے ہو رہا ہے۔ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچائی، دیانت، ہمدردی اور عاجزی ہی ایک انسان کو عظمت عطا کرتی ہیں۔ اگر نیت خالص ہو اور مقصد نیک تو انسان اپنے اردگرد مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جسے آگے بڑھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کی زندگی کو صرف یاد نہ کریں بلکہ اسے اپنے عمل کا حصہ بنائیں۔دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور معاشرے میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہی ان کے لیے حقیقی خراج عقیدت ہوگا۔
اللہ تعالیٰ سے دعاہے کر وہ مرحوم کو اپنی جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ اللہ ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور انہیں اس عظیم صدمے کو برداشت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔یقیناً کچھ لوگ جسمانی طور پر رخصت ہو کر بھی اپنے کردار، اپنی خدمات اور اپنی یادوں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں. مسعود احمد ظفر صاحب بھی انہی خوش نصیب انسانوں میں شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں