تخلیقی سوچ کا بحران اور ہمارا مستقبل

تحریر:رشید احمدنعیم

ہم اپنے بچوں کو سوال کرنے سے روکتے ہیں۔ انہیں نصاب کے محدود دائرے میں قید رکھتے ہیں اور پھر توقع کرتے ہیں کہ وہ دنیا بدل دیں۔یہ تضاد ہی ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ ہر سال 21 اپریل کو دنیا بھر میں عالمی تخلیقی صلاحیت اور جدت کا دن منایا جاتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اس دن کے پیغام کو سمجھ بھی پاتے ہیں یا محض رسمی بیانات تک محدود رہتے ہیں؟آج کا دور بلاشبہ علم اور ٹیکنالوجی کا دور ہے مگر محض معلومات کا انبار ترقی کی ضمانت نہیں بنتا۔ اصل طاقت اس سوچ میں ہے جو نئے سوال اٹھائے۔ پرانے طریقوں کو چیلنج کرے۔ ناممکن کو ممکن بنانے کی جستجو کرے۔ یہی تخلیقی صلاحیت ہے۔ایک ایسی قوت جو انسان کو ہجوم سے الگ کرتی ہے اور جب یہی سوچ عمل کا روپ دھارتی ہے تو جدت جنم لیتی ہے جو قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔
یہ کوئی نظریاتی بات نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ دنیا کی وہی قومیں آگے بڑھ رہی ہیں جنہوں نے اپنے تعلیمی نظام کو محض کتابوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ طلبہ کو سوچنے سوال کرنے اور غلطی کرنے کی آزادی دی۔ وہاں استاد صرف پڑھاتا نہیں بلکہ ذہنوں کو بیدار کرتا ہے۔ تحقیق کو محض ڈگری کا ذریعہ نہیں بلکہ مسئلہ حل کرنے کا ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔اس کے برعکس اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ ہمارے ہاں آج بھی کامیابی کا پیمانہ نمبرز ہیں نہ کہ سوچ کی گہرائی کو کامیابی تصور کیا جاتا ہے۔ ایک طالب علم اگر سوال کرے تو اکثر اسے گستاخی سمجھا جاتا ہے۔ نئے خیالات کو سراہنے کی بجائے دبانے کی روایت کہیں نہ کہیں ہماری جڑوں میں آج بھی موجود ہے۔ کیا ایسے ماحول میں تخلیقی ذہن پروان چڑھ سکتے ہیں؟
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں۔ ہمارے نوجوان دنیا بھر میں آئی ٹی، فری لانسنگ اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ کامیابیاں زیادہ تر انفرادی جدوجہد کا نتیجہ ہیں کسی منظم قومی حکمت عملی کا نہیں۔ اگر یہی توانائی درست سمت میں لگائی جائے، اگر ادارہ جاتی سطح پر رہنمائی اور وسائل فراہم کیے جائیں تو یہی نوجوان ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔تخلیقی صلاحیت صرف سائنس یا ٹیکنالوجی تک محدود نہیں۔ ایک ادیب اپنے الفاظ سے معاشرے کی روح کو آواز دیتا ہے۔ایک صحافی نئے زاویوں سے حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ ایک کاروباری ذہن وہ راستے نکالتا ہے جہاں دوسروں کو بند گلی دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسے لوگوں کو جگہ دے رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے معاشرے میں مختلف سوچ کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
عالمی سطح پر اس دن کو منانے کا مقصد محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے ہمیں اپنے سوچنے کے انداز کو بدلنا ہوگا۔ ماحولیاتی مسائل ہوں، بے روزگاری ہو یا صحت کے چیلنجزیہ سب روایتی طریقوں سے حل نہیں ہوں گے۔ ہمیں نئے راستے تلاش کرنا ہوں گے اور یہ کام صرف وہی ذہن کر سکتے ہیں جو آزاد ہوں۔
میڈیا کا کردار بھی یہاں انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ اگر میڈیا صرف سنسنی پھیلانے کے بجائے تخلیقی لوگوں، نئی سوچ اور مثبت مثالوں کو سامنے لائے تو یہ معاشرے کا رخ بدل سکتا ہے۔ ایک اچھی کہانی، ایک منفرد خیال اور ایک کامیاب تجربہ نوجوان کے لیے امید کی کرن بن سکتے ہیں لیکن اس سب کے لیے ایک بنیادی شرط ہے ماحول۔ ایسا ماحول جہاں اظہارِ رائے کی آزادی ہو۔ جہاں ناکامی کو جرم نہیں بلکہ سیکھنے کا مرحلہ سمجھا جائے۔ جہاں نئے خیالات کو شک کی نگاہ سے نہیں بلکہ امید کی نظر سے دیکھا جائے۔ بدقسمتی سے ہم اب بھی اس مرحلے تک نہیں پہنچ سکے جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جا سکے۔
سوال یہ ہے کہ ہم کب بدلیں گے؟ کب ہم اپنے نوجوانوں پر اعتماد کریں گے؟ کب ہم انہیں صرف نوکری کے امیدوار کی بجائے تبدیلی کے معمار کے طور پر دیکھیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ تخلیقی صلاحیت کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے گر اسے پہچان لیا جائے اور اسے صحیح سمت دے دی جائے تو یہ نہ صرف فرد کی زندگی بدل سکتی ہے بلکہ پوری قوم کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتی ہے لیکن اگر ہم نے اسے نظر انداز کیا تو ہم ہمیشہ دوسروں کی ایجادات کے صارف بن کر رہ جائیں گے خالق نہیں بن پائیں گے۔عالمی تخلیقی صلاحیت اور جدت کا دن ہمیں محض ایک دن کا پیغام نہیں دیتا بلکہ ایک مستقل سوال ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ کیا ہم سوچنے کے لیے تیار ہیں؟ کیونکہ جب سوچ بدلتی ہے تو تقدیریں بھی بدل جایا کرتی ہیں

03014033622
rasheed03014033622@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں