یو اے ای پر مسلسل دوسرے روز میزائل اور ڈرون حملے، ایران نے ذمہ داری لینے سے انکار کردیا

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک پر مسلسل دوسرے روز بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جن کا الزام ایران پر عائد کیا جا رہا ہے۔ تاہم ایران نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے حالیہ دنوں میں یو اے ای کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اگر ایران کی جانب سے کوئی حملہ کیا جاتا تو اس کا واضح اعلان کیا جاتا، لہٰذا اماراتی وزارتِ دفاع کے دعوے بے بنیاد ہیں۔

دوسری جانب اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو ہونے والے حملے سے ایک روز قبل بھی حملوں میں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے تھے، جبکہ فجیرہ کے اہم آئل تنصیب میں ڈرون حملے کے باعث آگ بھڑک اٹھی تھی۔ تازہ حملے کے نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔

یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکا نے حال ہی میں “پروجیکٹ فریڈم” کے تحت آبنائے ہرمز میں پھنسی ہوئی تجارتی جہازوں کو نکالنے کے لیے آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور گیس گزرتی ہے۔ ایران کی جانب سے جہازوں کو نشانہ بنانے یا دھمکانے کے باعث اس راستے پر تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، جس سے عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔

امریکا نے اس صورتحال کے جواب میں 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں اور جہاز رانی پر بحری ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے، جس سے ایران کی تیل برآمدات اور درآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔

یاد رہے کہ جنگ بندی کے باوجود حالیہ ہفتوں میں خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور ماہرین ایک بار پھر بڑے تصادم کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں