سندھ اسمبلی؛ چائلڈ لیبر، گیس لوڈشیڈنگ، غیرت کے نام پر قتل پر بحث، اہم قراردادیں منظور

کراچی: سندھ اسمبلی اجلاس میں چائلڈ لیبر، گیس لوڈشیڈنگ اور غیرت کے نام پر قتل سمیت کئی معاملات پر بحث ہوئی، اجلاس میں اہم قرارددیں بھی منظور کرلی گئیں۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت ہوا جہاں محکمہ صحت سے متعلق وقفہ سوالات میں وزیر صحت عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ صوبے میں ملیریا کے ہزاروں غیر مصدقہ کیسز ہوتے ہیں جبکہ اموات کی رپورٹنگ پر بھی سوالیہ نشان ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مون سون کے موسم میں اسپتالوں کو الرٹ کیا جاتا ہے ۔ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے اسپرے کرانے کے ساتھ گھروں میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں متعدد مقامات پر تعمیرات کے باعث پانی جمع ہوجاتا ہے جس سے مچھر پھیلتے ہیں۔

عذرا فضل پیچوہو نے بتایا کہ کووڈ کے دوران بھرتی کیے گئے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کا کنٹریکٹ ختم ہوچکا تھا۔

اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے عامر صدیقی کی جانب سے چائلڈ لیبر سے متعلق تحریک التوا پیش کی گئی۔ اسپیکر نے بتایا کہ متعلقہ وزیر سعید غنی 27 مئی تک چھٹیوں پر ہیں۔ عامر صدیقی نے کہا کہ کراچی میں چائلڈ لیبر ہورہی ہے، بچوں سے کام کروایا جاتا ہے جبکہ قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔

وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ لیبر سے متعلق قوانین موجود ہیں اور اگر مزید کوئی مسئلہ ہے تو سعید غنی سے رابطہ کیا جائے کیونکہ وہ ایک متحرک وزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کے دور میں چائلڈ لیبر قوانین بنے ہیں، اسی لیے تحریک کی مخالفت کرتے ہیں، جس پر اسپیکر نے تحریک مسترد کردی۔

پی ٹی آئی کے سجاد سومرو کی جانب سے ایک پرائیویٹ قرارداد پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ سندھ حکومت نئی سرکاری گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں صرف الیکٹرک خریدے۔

صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا کہ قرارداد میں اچھی تجاویز شامل ہیں، وہ ذاتی طور پر اس کی حمایت کرتے ہیں۔ وزیر پارلیمانی امور ضیا لنجار نے بھی قرارداد کی حمایت کی جس کے بعد ایوان نے قرارداد منظور کرلی۔

پی ٹی آئی کے محمد اویس کی جانب سے شہری علاقوں میں گیس لوڈشیڈنگ اور غیر اعلانیہ گیس بندش کے خلاف قرارداد پیش کی گئی۔

صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ نے تجویز دی کہ قرارداد میں شہر کے بجائے پورے سندھ کا ذکر کیا جائے کیونکہ گیس لوڈشیڈنگ پورے صوبے کا مسئلہ ہے۔ ضیاءالنجار نے کہا کہ گیس اور بجلی لوڈشیڈنگ سے متعلق کمیٹی قائم ہے جس کے سربراہ فیاض بٹ ہیں ، معاملہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔

اسپیکر اویس قادر شاہ نے کہا کہ افسران اجلاس میں نہیں آتے، انہیں پابند کیا جائے کیونکہ پارلیمنٹ سپریم ہے۔ فیاض بٹ نے تجویز دی کہ اگر کوئی افسر اجلاس میں نہ آئے یا کمیٹی فیصلوں پر عملدرآمد نہ کرے تو سزا کا تعین ہونا چاہیے۔ بعد ازاں ایوان نے قرارداد منظور کرلی۔

ایم کیو ایم کے عادل عسکری نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ سے ملنے والے 190 ملین پاؤنڈ سے اسلام آباد میں یونیورسٹی بنائی گئی حالانکہ یہ سندھ کا پیسہ ہے اور سندھ کو ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں 15 لاکھ آبادی کے لیے 25 یونیورسٹیز ہیں جب کہ سندھ کو اس رقم سے محروم رکھا گیا۔

عادل عسکری نے کہا کہ پنک بس اور پنک اسکوٹیز سے قوم نہیں بنتی بلکہ تعلیم سے شعور آتا ہے۔ ضیاءالنجار نے قرارداد کی حمایت کی اور ایوان نے اکثریتی رائے سے قرارداد منظور کرلی۔

اجلاس میں ایم کیو ایم کی بلقیس مختار کی جانب سے خیرپور میں روبینہ چانڈیو کے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قرارداد پیش کی گئی۔ بلقیس مختار نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے کمیٹی بنائی جائے اور روبینہ چانڈیو کے قاتلوں کو سخت سزا دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پسند کی شادی سے نہ قانون روکتا ہے اور نہ مذہب۔ مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل نہیں کی گئیں جس سے مجرم آسانی سے چھوٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام معاملات جرگوں میں طے ہونے ہیں تو عدالتیں بند کردینی چاہییں۔ بلقیس مختار نے کہا کہ خواتین کی وزارت اس معاملے پر خاموش رہی ۔ تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں اگر ذہن اور عمل نہ بدلے۔

ضیاءالنجار نے کہا کہ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے ، اب اس طرح کے واقعات شہری علاقوں میں بھی ہونے لگے ہیں، اس لیے اس مسئلے کا حل سب کو مل کر نکالنا ہوگا۔

وزیر صحت عذرا فضل پیچوہو نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ درندگی بڑھ چکی ہے ۔ روبینہ چانڈیو کو قانون اور مذہب نے پسند کی شادی کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسے کاروکاری بھی نہیں کہنا چاہتیں ۔ قتل میں ملوث افراد کو معاشرے سے خارج کردیا جانا چاہیے۔ عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ شہید بیٹی کو انصاف ملنا چاہیے۔

تنزیلہ قمبرانی نے کہا کہ اس معاملے میں مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں ہورہا ۔ قتل کرنے والے ویڈیوز میں فخر کرتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح تو جانوروں کو بھی ذبح نہیں کیا جاتا جس طرح خواتین کو قتل کیا جاتا ہے ۔ حوا کی بیٹیوں کو قتل کرنا بند کیا جائے۔

اجلاس کے دوران مکیش کمار چاولہ نے نیشنل ہائی وے کی خراب صورتحال کا معاملہ بھی اٹھایا۔ اسپیکر اویس قادر شاہ نے کہا کہ وفاقی وزیر مواصلات سے بات کی جائے گی ۔ چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو سندھ اسمبلی طلب کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں