عزالدین اسرائیلی حملے میں اہلیہ اور بیٹی سمیت شہید؛ نماز جنازہ میں پورا شہر امڈ آیا

حماس نے تصدیق کی ہے کہ غزہ میں تنظیم کے سربراہ اور القسام بریگیڈ کے کمانڈر عزالدین الحداد اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ شہید ہوگئے۔

عرب خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ کی مساجد سے اپنے دلیر اور بہادر سپوت کی شہادت کے اعلانات کیے گئے جس کے بعد فلسطینیوں کی بڑی تعداد گھروں سے باہر نکل آئی اور شدید نعرے بازی کی گئی۔

حماس رہنما کی لاش کو تنظیم کے پرچم میں لپیٹا گیا جس پر کلمہ طیبہ تحریر تھا اور قافلے کی صورت میں میتوں کو پہلے اسپتال اور پھر مسجد اقصیٰ پہنچایا گیا جہاں ہزاروں سوگواروں نے نماز جنازہ ادا کی۔

اسرائیلی فوج کے بقول عزالدین الحداد 7 اکتوبر 2023 کے اسرائیل پر حملوں کے اہم منصوبہ سازوں میں شامل تھے اور مئی 2025 میں محمد السنوار کی شہادت کے بعد غزہ میں حماس کی قیادت سنبھالنے والے مرکزی رہنما بن گئے تھے۔

خیال رہے کہ محمد سنوار حماس کے سابق سربراہ یحییٰ السنوار کے بھائی تھے اور بھائی کی شہادت کے بعد قیادت محمد سنوار کے ہاتھوں میں آئی تھی، ان کے بعد یہ ذمہ داری عزالدین السنوار نے سنبھالی۔

ترجمان اسرائیلی فوج کا یہ کہنا بھی ہے کہ عزالدین الحداد جنگ کے دوران اسرائیلی یرغمالیوں کی نگرانی کے نظام میں بھی شامل تھے اور انہوں نے خود کو یرغمالیوں کے درمیان رکھا تاکہ اسرائیل انھیں نشانہ نہ بنا سکے۔

عزالدین الحداد کو دنیا ’’دی گھوسٹ‘‘ کے لقب سے بھی جانتی ہے کیوں کہ وہ متعدد بار اسرائیلی حملوں میں بچ نکلے تھے اور ایسے غائب ہوجاتے جیسے گویا کوئی بھوت ہوں۔

وہ 1980 کی دہائی میں حماس میں شامل ہوئے اور تنظیم کے سب سے طویل عرصے تک زندہ رہنے والے عسکری کمانڈروں میں شمار ہوتے تھے۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے عزالدین الحداد کی شہادت کو بڑی آپریشنل کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق یرغمالیوں کی گفتگو میں ان کا نام بار بار سامنے آتا تھا۔

چیف آف اسرائیلی آمی نے یہ بھی کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں ملوث حماس کے تمام رہنماؤں اور کارکنوں کا تعاقب جاری رکھیں گے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں جا چھپے ہوں۔

یاد رہے کہ حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر کیے گئے حملوں میں تقریباً 1,200 ہلاکتیں ہوئی تھیں جن میں اسرائیلی فوجی بھی شامل تھے جب کہ 251 کو یرغمال بناکر غزہ لایا گیا تھا۔

اس کے جواب میں اسرائیلی کی غزہ پر مسلسل بمباری میں ایک لاکھ کے قریب فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ 10 لاکھ فلسطینی بے گھر ہوگئے جب کہ گھر، اسپتال اور اسکول تباہ ہوچکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں